کوئٹہ : پاکستان کے صوبے بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر کامیاب ہونے والے آزاد اراکین نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔پانچ اراکین میں سے تین نے پاکستان پیپلز پارٹی اور دو نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی۔
پانچ آزاد اراکین میں سے ولی محمد نورزئی اور کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی نے پاکستان مسلم لیگ ن جبکہ بخت محمد کاکڑ، لیاقت لہڑی اور اسفندیار کاکڑ نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ان آزاد اراکین کی شمولیت کے بعد بلوچستان اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 13، 13 ہوگئی ہے۔
تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت سازی کے لیے ایک اور آزاد رکن مولوی نوراللہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔مولوی نوراللہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی جماعت میں شامل نہیں ہوں گے تاہم وہ حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں گے۔
جمیعت علما اسلام کی بلوچستان اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 10 ہے۔
جمیعت علما اسلام بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع کا کہنا ہے کہ پارٹی مجلس عمومی کے اجلاس کے بعد بلوچستان میں حکومت بنانے یا کسی حکومت کا حصہ بننے یا نہ بننے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کی تعداد چار ہے۔ تاہم قلات اور منگیچر سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے امیدوار میر ضیاء اللہ لانگو کی کامیابی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تنازع کے باعث ان کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن کو روک دیا گیا ہے۔
نیشنل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں اراکین کی تعداد تین اور عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین کی تعداد دو ہے۔بلوچستان نیشنل پارٹی، حق دو تحریک، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور جماعت اسلامی کے اراکین کی تعداد ایک، ایک ہے۔
خصوصی نشستوں کو ملا کر بلوچستان اسمبلی کی مجموعی نشستوں کی تعداد 65 ہے، جس میں سادہ اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کے لیے 33 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے۔
حالیہ انتخابات کے بعد بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ تاہم مخلوط حکومت کے قیام کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن بلوچستان کے صدر شیخ جعفر مندوخیل نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان کی جماعت صوبے میں آسانی کے ساتھ اپنا وزیر اعلیٰ لاسکتی ہے، تاہم انھیں اس سلسلے میں پارٹی کی مرکزی قیادت کے فیصلے کا انتظار ہے ۔
سینیئر تجزیہ کار رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی بلوچستان میں اپنا وزیراعلیٰ لانے کے حوالے سے زیادہ پر اعتماد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وفاق میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان مسلم لیگ ن کو جو شرائط پیش کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ بلوچستان میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو دیا جائے گا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو)
منگل, ستمبر 8, 2026
تازہ خبریں:
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

