گزشتہ سے پیوستہ
23دسمبر کی صبح قافلہ روانہ ہوا حنیف سومرو صاحب کی قیادت میں اورقافلے میں ہمارے ساتھ عمران علی خان اورمانک ملاح بھی شامل تھے۔ ہمارا رخ ان آثار کی جانب تھا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہزاروں سال پرانے ہیں۔ سڑک کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پرجئے سندھ کے جھنڈے بھی دکھائی دے رہے تھے۔ بلاول بھٹو،آصف زرداری اورپیپلزپارٹی نواب شاہ کے مقامی قائدین کی تصاویر والے ہورڈنگز بھی نصب تھے۔کچھ مسافت کے بعد سومروصاحب نے گاڑی نہر کے کنارے ایک سڑک پر موڑ لی جس کے آغاز میں چاہوں جو ڈیرو میوزیم کابورڈ نصب تھا۔ اب ہمارا رخ چاہوں جو ڈیرو کی جانب تھا ۔ چاہوں ان جھاڑیوں کوکہتے ہیں جو دریامیں ہوتی ہیں ۔مورخین کے مطابق اس علاقے میں ان جھاڑیوں کی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ یہ علاقہ کبھی دریا کاحصہ تھا اور دریا بھی سندھو سائیں کے سوا بھلا اور کون سا ہوسکتاتھا کہ اس کی وسعت ایک زمانے میں بہت زیادہ تھی۔پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے دریاﺅں کے ساتھ جوسلوک کیا اس نے سندھو سائیں کو بھی ویسا نہ رہنے دیا جیسا وہ کبھی تھا۔پھراس کی ہیبت ختم ہوگئی ۔ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ یہ علاقہ کبھی سمندر ہوتاتھا اوراسی لیے چاہوں اس میں آج بھی موجودہیں۔
ہم میوزیم پہنچے تو اس کامرکزی دروازہ ہمارے لیے کھول دیاگیا۔کئی ایکڑ پر محیط یہ عجائب گھر ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے اور اس کاکریڈٹ سندھ حکومت کو جاتا ہے جو اپنی تہذیب اور ثقافت کو محفوظ کرنے کے منصوبوں پر اتنی سنجیدگی کے ساتھ کام کررہی ہے ۔لیکن ہم میوزیم میں داخل ہونے کی بجائے اس دروازے کی جانب بڑھ رہے تھے جو اس عمارت کے باہرلان کے اختتام پرواقع تھا۔ دروازہ کھول دیاگیا اورہمارے سامنے چاہوں جو ڈیرو کے آثار تھے۔ہزاروں سال پرانے آثار ،مٹی کے کچھ ٹیلے اور ان ٹیلوں میں مختلف مقامات پر اینٹیں ،ٹھیکریاں اور چاہوں کی جھاڑیاں ،کہیں کہیں یوں بھی محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس کے نیچے کچھ مکانات کی باقیات ہیں ، کچھ دیواری ںہیں جو دست برد زمانہ کی نذر ہونے سے ابھی بھی بچی ہوئی تھیں۔اور میں ہزاروں سال پرانی اس تہذیب کے آثار پرقدم رکھنے کے لیے پانچ ہزارسال پرانے شہر ملتان سے یہاں آیاتھا۔ایک تصور ملتان کے گلی کوچوں میں بھی قدم بہ قدم میرے ساتھ ہوتا ہے کہ مجھ سے پہلے کون لوگ تھے جوہزاروں سال پہلے اس شہر کی گلیوں سے گزرتے تھے۔اور ایک تصور چاہوں جو ڈیرو کے آثار پر قدم رکھتے ہوئے بھی مجھے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھا کہ اس دھرتی نے قدم رکھنے کے لیے جن خوش قسمت لوگوں کو منتخب کیا ان میں میرا شمار بھی ہوتا ہے۔چاہوں جو ڈیرو میرے ساتھ ہمکلام تھا۔ چاہوں جو ڈیرو ملتان کے ساتھ ہمکلام تھا۔
”کیسے ہوں گے وہ لوگ جو کئی ہزار سال پہلے شاید قبل مسیح کے زمانے میں یہاں آباد ہوںگے۔ یہیں کہیں ان کے مکان ہوں گے۔ یہیں کہیں ان کے بچے کھیلتے ہوں گے۔یہیں کہیں ان کی محبتیں پروان چڑھتی ہوں گی۔کہیں کسی جگہ چھپ کر ملاقاتیں ہوں گی۔ کہیں بے ترتیب دھڑکنیں ہوں گی۔ کہیں مسکراہٹیں ہوں گی اور کہیں سسکیاں ہوں گی۔ کسی مکان سے جب دھواں اٹھتا ہوگاتوکھانے کی مہک اردگرد کے مکینوں کی اشتہا بھی بڑھا دیتی ہوگی۔ کیا وہ لوگ کھیتی باڑی کرتے ہوں گے اور اگر وہ دریا کے مکین تھے تو ان میں کچھ مچھیرے ہوں گے۔ کچھ ملاح ہوں گے، اورانہی کانمائندہ مانک ملاح بھی یہاں میرے ساتھ تھا۔“
مانک ملاح سندھ دھرتی کا مقبول شاعر ہے۔ اس کے گیت زبان زدعام ہیں ۔وہ مشاعروں اور میلوں میں جب اپنی سندھی شاعری سناتا ہے تو لوگ ایک ایک مصرع پر جھومتے ہیں۔ اسے داد دیتے ہیں اور وہ عاجزی اور انکساری کاایک ایسا مجسمہ ہے کہ جس نے خود کو دھرتی ماں کے لیے وقف کررکھا ہے۔ پذیرائی اس میں تکبر پیدا نہیں کرتی۔وہ دونوں ہاتھ سینے پررکھ کرسرکو جھکادیتا ہے۔ اور یہی عاجزی اسے مزید رفعت عطا کرتی ہے۔ چاہوں جو ڈیرو کے آثار پر مانک ملاح کے چہرے پرجو چمک دکھائی دی ا سے ضبط تحریر میں نہیں لایا جاسکتا۔ وہ ہمیں ان آثار کی تاریخ بتاتا تھا اور حنیف سومرو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ہماری باتیں سنتے تھے۔ حنیف سومرو ایک معلم ہیں۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی سکرنڈ میں علم کی روشنی پھیلانے کے لیے وقف کردی۔ میں نے انہیں اس سفر کے دوران بہت کم مسکراتے دیکھا۔ اور وہ مسکراتے کیوں نہیں؟ یہ سوال ہم ان سے پہلی ملاقات میں پوچھ کر انہیں دکھی کرچکے تھے۔ ہاں عمران علی خان ہرتصویر بناتے وقت سومرو صاحب کو خاص طورپر یہ کہتے تھے ،سائیں تھوڑا مسکراﺅ ناں، اور سومرو صاحب جبری مسکراہٹ کے ساتھ یہ جواب دیتے تھے
” مسکرا تو رہا ہوں بھائی، اب ہماری شکل ہی ایسی ہے ہم کیا کریں“۔
اوراس پر ہم سب کھلکھلا کر ہنستے تھے۔ ان کے گلے میں بانہیں ڈالتے تھے اور آگے روانہ ہوجاتے تھے۔
ایک تصویر اس ٹھیکری کے ساتھ بنوانا ضروری تھا جو ان آثار میں سب سے نمایاں تھی اورپھرمجھے یادآئے ملتان کے ماہر آثاریات مرزا ابن حنیف کہ جن کے ساتھ ہماری آخری ملاقات بھی کچھ ٹھیکریوں کی موجودگی میں ہوئی تھی جنہیں وہ ایک گتے کے ڈبے میں احتیاط کے ساتھ محفوظ کررہے تھے تاکہ یہ سب آثار زکریا یونیورسٹی کے شعبہ سرائیکی کے سپردکردیئے جائیں کہ مرزا صاحب جانتے تھے کہ کینسر چند ہی روز میں انہیں ملتان کی اسی مٹی میں لے جائے گا جس میں سے انہوں نے یہ ٹھیکریاں تلاش کی تھیں۔
مرزا صاحب نے جوٹھیکریاں زکریایونیورسٹی کے حوالے کیں وہ1980ءکے عشرے میں قلعہ قاسم باغ سٹیڈیم کی کھدائی کے دوران دریافت ہوئی تھیں۔مرزا صاحب اس زمانے میں روزنامہ امروز کے ساتھ وابستہ تھے۔جب یہ خبر شائع ہوئی تو اگلے روز وہ خود سٹیڈیم پہنچ گئے اور اس کھدائی سے برآمد ہونے والے ہزاروں سال پرانے آثار کو محفوظ کرنا شروع کردیا کہ یہ آثار ملتان کی تہذیب اور تمدن کے آئینہ دار تھے۔اور یہی وہ آثار تھے جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہزاروں سال قبل ملتانی کس حال میں رہتے تھے ،کون سے برتن استعمال کرتے تھے اوران کا طرز زندگی کیاتھا۔
اس ایک ٹھیکری نے مجھے چشم تصور میں کہاں سے کہاں پہنچا دیااور پھر مانک ملاح کی آواز مجھے واپس چاہوں جو ڈیرو کے آثارمیں لے آئی۔مانک ملاح بتارہے تھے کہ ان آثار کو کھدائی کے بعد کچھ نشانیاں لگا دوبارہ بند کردیا جاتا ہے اور غیر ملکی ماہرین آثاریات نشانیاں لگا کر واپس چلے جاتے ہیں پھرکئی برسوں بعد واپس آکر ان نشانیوں کے ذریعے اپنی تحقیق کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک ٹیلے پر کچھ آگے بڑھے تو دیکھا کہ ان آثار پرایک ملنگ نے چاردیواری بنا کرعلم لگا رکھا ہے۔
”یہ کیا ہے سائیں، کیاکسی کا مزار ہے۔“
”ناں سائیں ،مزارنہیں یہ قبضہ ہے“
”تو گویاان آثارپربھی قبضہ ہوگیا؟“
”سائیں اللہ نے سب کے رزق کابندوبست تو کرنا ہے ناں، یہ توملنگ ہے اپنی روزی روٹی کررہا ہے ،ان سے تو بہتر ہے جو یہاں سے بہت سے آثار ا ٹھا کر لے گئے اورانہیں بیرون ملک سمگل کرکے کروڑوں روپے کمالیے۔“
دھوپ تیز ہوچکی تھی۔ صبح ہم سردی میں کوٹ کے ساتھ احتیاطاً جیکٹ بھی پہن آئے تھے اور وہ جیکٹ اب بوجھ بن چکی تھی۔ ماتھے پرپسینہ ،بالوں، چہرے اور ہاتھوں پر چاہوں جو ڈیرو کی مٹی دیکھ کر حنیف سومرو صاحب سمجھ گئے کہ ملتانی تھک گیا ہے۔ اب ہمارا رخ واپس اسی دروازے کی جانب تھا جسے کھول کر ہم ان آٰثار کی جانب آئے تھے ،کچھ ہی دیر میں ہم دوبارہ میوزیم میں پہنچ چکے تھے۔
(جاری ہے)
حنیف سومرو،چاہوں جو ڈیرو کے آثاراور مرزا ابن حنیف کی یاد : رضی الدین رضی کی سفر کہانی ( دوسرا حصہ )
ایڈیٹر18 Views

