یوں تو وطن عزیز سے بغرض تلاشِ معاش بیرون ممالک ہجرت کا سلسلہ شروع ہوئے پون صدی ہونے کو ہے اور اب ہماری تیسری اور چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے مگر دل آج بھی وطن اور اہلِ وطن کے ساتھ ہی دھڑکتے ہیں اور تمام اوورسیز پاکستانی اس جنتِ ارضی سے ہزاروں میل دور رہتے ہوے بھی ہمہ وقت متفکر ومضطرب رہتے ہیں اور مہذب و ترقی یافتہ دنیا سے حاصل شدہ علم تجربات اور مشاہدات کو اصلاحِ معاشرہ کے ضمن میں لانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ عوام الناس کے لیے انتہائی ناکافی سہولیات ،جا بجا بکھری ہوئی غلاظت اور گندگی کے ڈھیر اور اس پہ ظلم یہ کہ جس ملک کی آبادی کی غالب اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہو وہاں اربوں روپے ماہانہ اشرافیہ کے غیر ضروری نخروں اور غیر تعمیری اخراجات پر خرچ چہ معنی دارد ۔
برطانیہ کا شمار دنیا کی پانچویں بڑی معاشی قوت کے طور پر ہوتا ہے جہاں پارلیمنٹ کے ممبران کی تعداد ساڑھے چھ سو ہے اور قانون نے وزراء کی زیادہ سے زیادہ تعداد بائیس مقرر کر رکھی ہے مگر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ تعداد شاز و نادر ہی پوری ہوتی ہے اب بھی کیبنٹ میں صرف پندرہ وزراء ہیں جس کے مقابلہ میں آزاد کشمیر اسمبلی کی تعداد پچاس سے کم جن میں انتیس وزیر اور باقی مشیر اِسی طرح برطانیہ میں کسی بیوروکریٹ یا جج کے پاس کوئی سرکاری گاڑی ڈرائیور یا گھریلو ملازمین نہیں ہیں مگر پاکستان میں نو آبادیاتی فرسودہ نظام محض دو یا تین فیصد لوگوں کی خوشنودی کے لیے قائم رکھا ہوا ہے جبکہ ستانوے فیصد لوگ مہنگائی اور غربت میں پسے جا رہے ہیں اس موقع پہ ملکی سطح پہ
Campaign : No to protocol.
شروع کیے جانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قومی دولت کے غیر ضروری ضیاع کو روکا جا سکے اور وہ پیسہ عوام الناس کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جا سکے ۔
مہذب ممالک میں ممبران پارلیمنٹ کو ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی پنشن وغیرہ نہیں صرف ایک سال کا الاونس دیا جاتا ہے تاکہ اس عرصے میں وہ اپنے لیے کسی مناسب کام کاج کا بندوبست کر سکیں ۔ ججز کی کام کے مقابلہ میں بے تحاشا تنخواہیں پنشن اور دیگر مراحات فوری طور پر پچاس فیصد کم کیے جانے اور اگلے پانچ سالوں میں بتدریج کم کرتے ہوئے دیگر گریڈ کے برابر کیے جانے کی ضرورت ہے ۔ برطانوی سول سروس ہی کی طرح میرٹ مقدم انکریمنٹ اور ترقی پرفامنس کی بنیاد پرہونی چاہیں ۔ ججز کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی اختلافات تعصبات حسد اور بغض سے بالا تر ہو کر انصاف اور سچائی تک پہنچنے میں پوری دیانتداری سے کام لیں اور اگر اس بات کا ہلکا سا بھی شائبہ ہو کہ وہ ایسا نہیں کر پائیں گے تو پھر نظامِ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کیس کی سماعت کا حصہ نہ بناہیں مگر شومیے قسمت نظریہ ضرورت سے لیکر اب تک ہر ایک کے کرتوتوں کی وجہ سے ملک دولخت ہو چکا ہے ۔ جھوٹ کو کتنے بھی سلیقے سے بولا جائے یا اس کی کتنی بھی پردہ داری کی جاہے اسے ایک نہ ایک دن سامنے آنا ہی ہوتا ہے جیسے گزشتہ پچھتر 75 سالوں کے سر بستہ راز اب عیاں اور مکروہ چہروں کے بے نقاب ہو رہے ہیں ۔ ایک مقبول لیڈر کو دیوار سے لگا کر کیا ایک بار پھر 1971 جیسے حالات پیدا کیے جانے کی کوشش ہو رہی ہے ؟
قومیں اصول انصاف کردار اور سچائی سے پہچانی جاتی ہیں گزشتہ ہفتے ہم چند دوستوں کو البانیہ جسے یورپ کا پسماندہ ترین ملک سمجھا جاتا ہے جانے کا اتفاق ہوا تو سر ندامت سے جھک گئے کہ وہ بھی ہم سے سینکڑوں سال آگے ہیں ۔
بیرونِ ممالک سے سیاحوں کو لانے جانے کے لیے ائیر لائنز سستے ترین ٹکٹس کا اجراء کرتی ہیں لندن سے البانیہ اور واپسی کا ٹکت تیس پاونڈ مقامی لوگوں کے رویے انتہائی خوبصورت نتیجتاّ مثبت نتائج کیسے سامنے آتے ہیں اس کی ایک مثال بروز اتوار ہم نے دارلحکومت میں ایک چھوٹی سی جھیل TIRANA CENTRAL LAKE
کے صرف ایک واکنگ ٹریک پہ دو گھنٹے کا وقت گزارا اور محسوس کیا کہ جتنے سیاح وہاں ایک دن میں آ کر اس ملک کی معشیت کو مضبوط کرنے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں ہمارے ملک میں پورے سال میں اتنے نہیں آ پاتے ۔ وزیرِ سیاحت جناب وصی شاہ صاحب کا یورپ اور دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں آنا جانا رہتا ہے اور شاعر چونکہ فطرتی طور پہ تخلیقی ذہن کے مالک ہوتے ہیں اس لیے وہ ایسے مقامات سے بہتر آیڈیاز لیکر اس ملٹی بلین انڈسٹری میں بہتر مثبت تبدیلیاں جو ملک اور قوم کے مفاد میں ہیں لا سکتے ہیں ۔ ملک کے اندر لا اینڈ آڈر کی صورت اگر بہتر نہیں ہے اور اوورسیز ورکرز کو ائیر پورٹس سے باہر نکلتے ہی پولیس ناکوں پہ قتل کر دیا جاہے اور کوئی پرسانِ حال نہ ہو تو اسطرح کے واقعات نہ صرف ملکی وقار کے منافی ہیں بلکہ معاشی مفادات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں . ان سب قباحتوں کے سدِباب اور دھرتی ماتا سے وفا کا تقاضا یہ ہے کہ پری پول ریگینگ جس کا بیرونی دنیا مذاق اڑا رہی ہے اور وراثتی سیاست کی بجاہے پوری دیانتداری سے فئیر الیکشن کے نتیجے میں صاحب کردار منتخب اکثریتی نمائندوں کو حکومت سازی کا موقع دیا جاہے وگرنہ بگڑی ہوئی کھیل کو سنبھالنا کسی کے بس کا روگ نہیں اور یہی پاکستان اور اسلام دشمن قوتوں کی خواہش ہے ۔

