لاہور : معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ قذافی اسٹیڈیم میں اداکردی گئی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔عاصمہ جہانگیرکی نماز جنازہ مولانا مودودی کے صاحبزادے سید حیدر فاروق مودودی نے پڑھائی، نماز جنازہ میں سیاسی و سماجی شخصیات، وکلا اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت ہزاروں خواتین نے شرکت کی پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا جنازہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں خواتین شریک ہوئیں ۔عاصمہ جہانگیر کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کی صاحبزادی سلیمہ آج بیرون ملک سے واپس پاکستان پہنچی ہیں،جبکہ عاصمہ جہانگیر کی تدفین ان کے فارم ہاؤس بیدیاں روڈ پر کی جائے گی۔عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں، انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر جانی جانے والی عاصمہ جہانگیر کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں خاص شہرت حاصل تھی اور انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا تھا۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عاصمہ جہانگیر کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ کرنے کے لیے وزیر اعظم کو خط لکھا تھا اور ان کی تدفین کے دوران قومی پرچم سرنگوں کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔
منگل, اگست 25, 2026
تازہ خبریں:
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار
- ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
- مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم
- انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعدپاکستان میں گستاخی کے مقدمات میں دو تہائی کمی آئی : رائٹرز کی رپورٹ
- حکومت نے خان کی ہسپتال یاترا کرا دی : رات گئے چیک اپ علی الصبح سخت سیکیورٹی میں جیل واپس
- بیان مزید دربارہ سود و زیاں : وجاہت مسعود کا مکمل کالم

