سن تھا انیس سو ستانوے کا اور پنجاب پر میاں شہباز شریف کی حکمرانی تھی۔ایف ایس سی کے نتائج کا اعلان ہوا تو ہم نے اطمینان کا سانس لیا اور پر سکون ہو گئے کیونکہ بیٹے احمد نے ان نتائج کے مطابق ایک سال پہلے نشتر ہسپتال میں میڈیکل میں داخلے کے لئے درکار میرٹ سے دس بارہ نمبر زیادہ لے کر یہاں داخلے کی خواہش کو یقینی بنا دیا تھا ۔۔
یادش بخیر ۔یہ وہ دور تھا جب میڈیکل میں داخلے کے لئے درخواست فارم بھی صرف کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے دفتر سے ملا کرتے تھے جن کے حصول کے لئے لاہور جانا پڑتا تھا۔۔لاہور جانا۔۔الصبح "کے ای” کے باہر طویل قطار میں کھڑے ہونا۔۔الگ کہانی ہے۔۔
خیر۔۔اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ اچانک وزیر اعلٰی پنجاب کی طرف سے میڈیکل کالج میں میرٹ کے نام پر "انٹری ٹیسٹ” کے انعقاد کا اعلان کیا گیا اور یہ ٹیسٹ منعقد کروانے کی ذمہ داری کراچی کے ایک معروف "آئی بی اے” نامی تعلیمی ادارے کو سونپ دی گئی ۔۔
ملتان میں یہ ٹیسٹ قلعہ کہنہ کے سٹیڈیم میں منعقد ہوا ۔چند دن کے بعد اس ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان سامنے آیا۔نتائج کی فہرستیں نشتر ہسپتال میں آنا تھیں۔جس شام یہ فہرستیں آنا تھیں اس شام نشتر ہسپتال کے پرنسپل آفس کے سامنے والے پلاٹ طلبہ اور ان کے والدین سے بھر گئے۔۔۔پرنسپل آفس کے ٹیلی پرنٹر پر نتائج کی فہرستیں آنا شروع ہوئیں۔۔ایک کے بعد دوسری فہرست پھر تیسری اور یہ سلسلہ جاری رہا ۔۔نتائج پریشان کن ہی نہیں حیران کن تھے۔جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے حتیٰ کہ ملتان بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے تعلیمی بورڈز میں نمایاں پوزیشن لینے بلکہ ٹاپ پوزیشن لینے والے طلبہ بھی ان نتائج کے مطابق ناکام اور فیل ہو گئے تھے۔۔
یہ نتائج قطعی طور پر ناقابلِ قبول تھے۔۔اس پر احتجاج شروع ہوا تو اس احتجاج کو حکام بالا تک پہنچانے کے لئے ” پیرنٹس ایکشن کمیٹی” کے نام سے بننے والی کمیٹی میں ملتان کی کئی نامور شخصیات بشمول ڈاکٹر صاحبان شامل تھیں۔۔
"نوائے وقت” ملتان میں کالم نگاری کے حوالے سے راقم کو اس کمیٹی نے اخبارات کے ذریعے یہ مسئلہ اجاگر کرنے کی ذ مہ داری سونپی۔۔ہم نے”نوائے وقت” کے محترم سید خالد جاوید مشہدی اور محترم عارف معین بلے کے تعاون سے کالم پر کالم۔۔ مضامین اور احتجاجی بیانات کے ذریعے اور حکومت پنجاب کو ہر روز مختلف افراد کی طرف سے بھیجے جانے والے ٹیلی گرامز کے ذریعے اس مسئلے کی طرف بلآخر متوجہ کر لیا۔یہ مسئلہ چونکہ جنوبی پنجاب کا تھا اس لئے لاہور کے اخبارات نے اس پر کوئی خاص توجہ نہ دی تھی۔۔
پھر ایک روز ٹیسٹ لینے والے ادارے "آئی بی اے” کے سربراہ ڈاکٹر وہاب نے پی ٹی وی پر جلوہ افروز ہو کر ایک انتہائی نا مناسب بیان دیا کہ ملتان میں طلبہ کی جوابی کاپیوں پر گرد اور پان کی پیک کے نشانات ہونے کی وجہ سے "اسکینر” درست نتائج مرتب نہیں کر سکا۔۔اس بیان کے بعد ہم نے جوابی کاپیوں کی ” مینوئل چیکنگ” کا مطالبہ کر دیا جو بڑی رد و کد کے بعد مان لیا گیا اور جس کے نتیجے میں فیل ہونے والوں کی اسی فیصد سے بھی زیادہ تعداد کامیاب قرار پائی۔۔
اس کے بعد اگلے برس ہی ٹیسٹ کی تیاری کے لئے اکیڈمیاں قائم ہونا شروع ہو گئیں ۔۔سب سے پہلے لاہور میں "سٹار اکیڈمی ” کے نام سے یہ کاروبار شروع ہوا جس کے کرتا دھرتا ایک ریٹائرڈ جنرل تھے۔کیولری گراؤنڈ لاہور کے قریب ان کے دفتر میں میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔پھر ” کپس اکیڈمی ” سامنے آئی ۔۔ایف ایس سی کا رزلٹ آتے ہی ان اکیڈمیوں میں ٹیسٹ کی تیاری کے نام پر جو کاروبار شروع ہوا اس نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی۔میڈیکل میں داخلے کے خواہشمند ان اکیڈمیوں میں داخلے کے لئے لاہور کا رخ کرنے لگے۔ اور پھر یہ ہونے لگا کہ ایک سال "سٹار اکیڈمی” اور ایک سال "کپس اکیڈمی” کے طلبہ کی اکثریت انٹری ٹیسٹ میں کامیابی سے ہم کنار ہونے لگی۔۔
لاہور میں اپنی پوسٹنگ کے دوران راقم نے کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ان کی "باریاں” لگی ہوئی ہیں۔ملتان میں انٹری ٹیسٹ کی تیاری کا آغاز نشتر ہسپتال کے ڈاکٹر اللہ داد خان مرحوم نے کیا۔۔۔
کاروبار کی ترقی کے پیشِ نظر سٹار اور کپس اکیڈمیاں اب "وبائی امرض”کی طرح ہر شہر میں پھیل چکی ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ دیگر ناموں سے بھی یہ کاروبار جاری وساری ہے۔۔۔
اس وقت "انٹری ٹیسٹ "کے نام پر ہونے والا سالانہ اربوں روپے کا یہ انتہائی منافع بخش کاروبار اپنے عروج پر ہے۔۔۔مگر۔۔۔نتائج آج بھی ناقابلِ فہم اور ناقابلِ تسلیم و قبول ہیں۔
حال ہی میں منعقد ہونے والے انٹری ٹیسٹ کے نتائج دو صوبوں کے پی کے میں ہائی کورٹ کی طرف سے اور سندھ میں وزیر اعلی کی طرف سے منسوخ کر دئیے گئے ہیں۔۔پنجاب میں "آنسر کی” میں غلطیوں یا گڑ بڑ کی وجہ سے تا حال داخلوں کی تاریخ کا اعلان تاخیر کا شکار ہے۔۔
یہ ساری روداد مختصراً ضبط تحریر میں لانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ گزشتہ ستائیس سالوں میں "انٹری ٹیسٹ” کے نام پر اربوں روپیہ کمانے والے اس سسٹم پر "اعتماد و اعتبار” بحال نہیں کر سکے۔۔
سچ ہے کہ نظام حکومت و مملکت تاجروں کے ہاتھوں میں ہو تو صرف "تجارت” ہی فروغ پاتی ہے۔۔
میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ سٹار اکیڈمی اور ریٹائرڈ جرنیل کی کہانی : شاہد راحیل خان کا کالم
ایڈیٹر18 Views

