لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی ٹیم کے بھارتی ویزوں کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو خط لکھ دیا۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی نے خط کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، خط میں اپنے تحفظات اور خدشات کا بھی اظہار کیا ہے، پی سی بی نے ہوسٹ ممبرز ایگریمنٹ کی یاد دہانی بھی کرائی ہے۔
خط میں کہا گیا ہےکہ تین سال سے اسی ایشو کے حوالے سے بار بار کہا گیا، پاکستان کے تحفظات پر کسی قسم کا دھیان نہیں دیا گیا، آج صورت حال یہ ہےکہ تاحال پاکستانی اسکواڈکو بھارت کے ویزے جاری نہیں ہوئے۔
پی سی بی کا کہنا ہےکہ اس حوالے سے رویہ مایوس کن رہا ہے، اس عمل کی وجہ سے آج غیر یقینی کی صورتحال ہے، قومی اسکواڈ نے دبئی میں دو روز قیام کرنا تھا، ویزے بروقت نہ ملنےکی وجہ دبئی میں دو روز رکنےکا پلان اپ سیٹ ہوا، گزرتے وقت کے ساتھ غیر یقینی کی صورت حال بڑھتی جا رہی ہے جو کہ پریشان کن ہے۔
پی سی بی کے مطابق جب بھی رابطہ کیا گیا تو کہا گیا کہ 24 گھنٹوں میں ویزے آجائیں گے، افسوس ہےکہ اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ویزوں کا اجراء نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب ذرائع کا بتانا ہےکہ صحافیوں سے اب تک پاسپورٹ بھی وصول نہیں کیے جا رہے، ویزا کوریئر سروس کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ابھی ایمبیسی سے ورلڈکپ کے ویزوں پر کلیئرنس نہیں، ویزا سروس کی کمپنی نے صحافیوں کو آفیشل انوائیٹ بھیجنے والے افسر کے پاسپورٹ کی کاپی جمع کرنےکا بھی کہہ دیا۔
صحافیوں کو آفیشل دعوت نامہ بی سی سی آئی کے میڈیا مینیجر مولن پاریکھ نے جاری کیے ہیں۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

