اسلام آباد : انسداد دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد چوہدری پرویز الہی کو تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ میں انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) اسلام آباد میں پیش کیا گیا جہاں جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی۔
پرویز الٰہی کے وکیل علی بخاری اور سردار عبدلرازق عدالت میں پیش ہوئے، جج ابو الحسنات نے کہا کہ جی سردار صاحب کیا کہیں گے، وکیل سردار عبدالرازق نے کہا کہ جس دن کا واقعہ ہے اس دن درج ایف آئی آر میں پرویز الہی کا نام نہیں تھا، واقعے کے وقت پرویز الہی پی ٹی آئی کا حصہ نہیں تھے، اپریل میں پرویز الہیٰ نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔
وکیل سردار عبدالرازق نے کہا کہ ایف آئی آر پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف درج کی گئی تھی، پرویز الٰہی کا نام جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس میں دو روز قبل شامل کیا گیا، پرویز الٰہی کے خلاف متعدد سیاسی کیسز بنائے گئے ہیں، پرویز الٰہی کو لاہور سے اغوا کرکے اسلام آباد لایاگیا اور گرفتار کیا گیا، پرویز الٰہی اپریل 2023 میں پی ٹی آئی کا حصہ بنے، اس سے قبل پی ٹی آئی کا حصہ نہیں تھے۔
وکیل صفائی سردار عبدالرازق مؤقف اپنایا کہ جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس کا مقدمہ مارچ میں درج ہوا، ہائیکورٹ نے کہا پرویز الٰہی کے خلاف سیاسی کیس بنایاگیا، ڈسچارج کیاجائے، پرویز الٰہی کو ڈسچارج کرنے کی بجائے انہیں گجرانوالہ میں درج مقدمے میں نامزد کردیاگیا، گجرانوالہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نےبھی کہا کیس کچھ نہیں، ڈسچارج کیاجاتاہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے آرڈر دیا کہ انکو کسی نامعلوم مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے، لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پرویز الٰہی کو کسی بھی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ نے جو آرڈر دیا وہ ہر اینگل کو کور کرتا ہے، ایم پی او میں گرفتاری سے لاہور ہائیکورٹ نے روک دیا، لاہور ہائیکورٹ سے نکلے تو راستے سے اسلام آباد پولیس اور سادہ ملبوس اہلکار وں نے گرفتار کیا۔وکیل سردار عبدلرازق نے کہا کہ کوئی وارنٹ یا ایم پی او کا آرڈر نہیں تھا ، اسلام آباد کے ڈی سی نے ایم پی او کا آرڈر نکالا، تمام ایم پی او آرڈر میں کومے کی بھی تبدیلی نہیں ہے، صرف نام کی ہے، نیب نے بھی پرویز الٰہی کو اڈیالہ جیل سے گرفتار کیا، لاہور ہائیکورٹ نے اس بات کو سمجھا کہ پرویز الٰہی کے بنیادی حقوق کو پامال کیاجارہا ہے۔
وکیل صفائی سردار عبدالرازق نے کہا کہ عدالتی فیصلے نہ مانے جائیں تو عدالت کا اختیار ہےکہ فیصلوں کے تحفظ کے لیے ڈائریکشن جاری کرے، عدالت کا فیصلہ نہیں مانا گیا تو ہائی کورٹ نے فیصلہ جاری کیا کہ کوئی ادارہ پرویز الٰہی کو گرفتار نہ کرے، ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ڈی ائی جی آپریشنز لاہور پرویز الٰہی کو رہائش گاہ پر پہنچائیں، اسلام آباد پولیس نے گاڑی سے اغوا کر کے پرویز الٰہی کو گرفتار کیا۔
وکیل صفائی سردارعبدالرازق نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے پاس کوئی وارنٹ نہیں تھا، بعد میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا فیصلہ نکالاگیا، لاہور ہائیکورٹ نے ڈی سی اور آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا، اندازہ لگائیں کیسے ملک میں قانون کو ختم کیاجارہاہے، پرویزالٰہی کو پولیس لائنز میں اغوا کرکے بند کردیاگیا۔
وکیل صفائی سردارعبدالرازق نے لاہور، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کو اےٹی سی جمع کروادیا اور مؤقف اپنایا کہ پولیس لائنز کے اندر سے ہی میری گاڑی میں پرویز الٰہی کو گرفتار کیا گیا، کیسز ختم ہوگئے تو پرویزالٰہی کا نام جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس میں نامزد کردیاگیا، کیس میں پرویزالٰہی کو گمنام کیس میں مفروضوں پر نامزد کیا، پرویز الٰہی کا جسمانی ریمانڈ لفظ شائد کی بنیاد پر مانگا جارہا ہے، پرویز الٰہی ڈپٹی وزیراعظم، دو بار وزیراعلیٰ رہ چکے، نامعلوم کیسے ہوئے ؟ کچھ ثبوت ہو تو جسمانی ریمانڈ مانگیں,6 ماہ بعد پرویزالٰہی کو مقدمے میں نامزد کیاگیا۔
وکیل صفائی سردار عبدالرازق نے پرویزالٰہی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی اور دیگر کی اس کیس میں ضمانت کنفرم ہوچکی ہے۔
وکیل بابر اعوان نے مختلف قانونی حوالے دیتے ہوئے ایف آئی آر پڑھنا شروع کی اور کہا کہ مارچ کا مقدمہ ہے ابھی تک پرویز الٰہی کے خلاف کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشتگرد ہیں، پراسیکیوشن نے اب تک کیا ثبوت دیا ہے کہ پرویز الٰہی دہشتگرد ہیں، رائے دانے جتنا بھی ثبوت پراسیکیوشن کے پاس پرویز الہٰی کے خلاف نہیں ہے، جو مقدمے میں نامزد تھے وہ ڈسچارج نہیں ہوئے جو نامعلوم تھے وہ تمام ڈسچارج ہیں۔
وکیل بابر اعوان نے پرویز الٰہی کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر تے ہوئے کہا کہ ثبوت دکھائیں؟ کس بنیاد پر جسمانی ریمانڈ چاہیے؟ جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں ڈسچارج ملزمان کے فیصلے کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج نہیں کیاگیا، وکیل بابر اعوان نے مختلف قانونی حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ایک ساز ش ہوئی جس میں گاڑی استعمال ہوئی اور ڈنڈا استعمال ہوا کون سا ہوا نہیں معلوم۔
وکیل بابراعوان نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کے لیے کوئی گراؤنڈ ہونا چاہیے، یہ کیس ریمانڈ کا نہیں بلکہ ڈسچارج کا ہے، پرویز الہٰی کو ناجانے کہاں سے مقدمے میں نامزد کر کے لایا گیا ہے، کمزوری سے بڑی طاقت اللہ نے کوئی نہیں بنائی، دہشتگردی کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لیے ڈسچارج کیا جائے۔
وکیل بابراعوان نے اپنے دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد وکیل علی بخاری نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی شواہد ہے نہیں تو ریمانڈ کیسے دیا جا سکتا ہے، آرڈر میں لکھا جانا ہے کہ کون سا ڈنڈا برآمد کرنا ہے، کون سی گاڑی برآمد کرنی ہے، پرویز الہٰی 72 گھنٹے سے ان کے پاس ہیں، ان نے کیا تفتیش کی ہے۔
وکیل علی بخاری نے پرویز الٰہی کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے اپنے دلائل مکمل کرلیے جس کے بعد اسپیشل پراسیکوٹر طاہر کاظم نے دلائل کا آغاز کیا اور مؤقف اپنایا کہ پنجاب کے کیسز اپنے تھے، یہاں پر یہ الگ کیس ہے اور اس کو اپنی نوعیت سے دیکھنا ہوگا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے آرڈر دیا کہ اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے، پرویز الہٰی نے گاڑیاں، بندے اور مالی معاونت کی تھی جس پر تفتیش کرنی ہے، جن لوگوں کو ڈسچارج کیا گیا ان پر صرف ایما کا الزام تھا۔
پراسیکیوٹر کی جانب سے مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی گئی، عدالت نے استفسار کیا کہ پہلے کتنے دن کا جسمانی ریمانڈ ہوا تھا، پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ پہلے دو روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا تھا، عدالت نے کہا کہ دو دن میں کیا تفتیش کی ہے آپ نے۔
عدالت نے پرویز الٰہی کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج ہوئے مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔عدالت نے پرویز الٰہی کی ضمانت پر فریقین کو 11 ستمبر کے لئے نوٹس جاری کر دیے۔
پرویز الٰہی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجے جانے کے بعد درخواست ضمانت اور جیل میں فیملی کی ملاقات اور کھانے کی درخواست دائر کردی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ پرویز الٰہی کی فیملی سے ملاقات کروائیں، پرویز الٰہی صاحب سامنے آئیں،
پرویز الٰہی نے روسٹرم پر آکر کہا کہ بہت مہربانی بہت شکریہ، پنجاب کی کوئی جیل رہ نہیں گئی جہاں مجھے بھیجنا ہو، پرویز الٰہی نے جج سے مکالمہ مجھے دل کے اسٹننگ بھی لگے ہوئے ہیں، وزیراعلی پنجاب میرا رشتہ دار ہے لیکن میرے سخت خلاف ہے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بھی ڈرو۔
پرویز الٰہی کی درخواست دائر پر فریقین کو 11 ستمبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے اے ٹی سی عدالت نے پراسیکیوٹر کی جانب سے مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کر دی اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ پرویز الہیٰ کو اڈیالہ جیل بھیجا جاتا ہے، پرویز الہی کو 22 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے، تفتیشی افسر آئندہ سماعت پر دفعہ 173 کے تحت رپورٹ جمع کرائیں۔
عدالت نے جیل میں چوہدری پرویز الہی کو فیملی سے ملاقات کے ساتھ ساتھ گھر کا کھانا فراہم کرنے کی درخواست بھی منظور کرلی۔
پرویز الہٰی پی ٹی آئی کے ان متعدد رہنماؤں اور کارکنوں میں شامل ہیں جنہیں 9 مئی کو ہونے والے ہنگاموں کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

