اسلام آباد :پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نیا آرمی چیف اپنی مرضی سے مقرر کرنے کی شرط لگادی تھی جسے ہم نے مسترد کر دیا تھا۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے سردار ایاز صادق کا کہنا تھا پرویز خٹک کا یہ کہنا درست ہے کہ تحریک انصاف نے پچھلے ایک سال میں چار مرتبہ سے زیادہ انتخابات کا موقع گنوا دیا کیونکہ چیئرمین تحریک انصاف نئے انتخابات کے بجائے نئے آرمی چیف میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے ہم سے بات کرتے تھے تو کہتے تھے پوچھ کر آتے ہیں، پی ٹی آئی والے پوچھنے کے لیے جاتے تھے تو پھر واپس نہیں آتے تھے، پشاور دھماکے پر اے پی سی کے لیے میں نے اسد قیصر اور پرویز خٹک کو فون کیا، ان سے کہا کہ اے پی سی میں آئیں اور دھماکے کی مذمت کریں، میں راستہ نکال کر دوں گا، ہم تحریک انصاف سے بات کرناچاہتے تھے وہ نہیں کرنا چاہتے تھے، ہم صاف شفاف الیکشن اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوشش پر متفق تھے، وہ آرمی چیف کی تقرر سے متعلق نام دینا چاہتے تھے جو ہمیں قبول نہیں تھا۔
وفاقی وزیر ایاز صادق نے کہا کہ نگران وزیراعظم کا کردار محدود ہوتا ہے، جو وقت پر ذمہ داری پوری کرے اس کو نگران وزیراعظم ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم سے متعلق ابھی کسی نام پر بات نہیں ہوئی، نگران وزیراعظم سے متعلق اپوزیشن لیڈر سے مشاورت ہو گی، الیکشن کمیشن تاریخ دے گا اور نگران وزیراعظم انتخابات ممکن بنائے گا، 60 یا 90 دن میں انتخابات ہونے چاہئیں۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ آنے والے عام انتخابات میں آر ٹی ایس نہیں بیٹھے گا، رات دو بجے تک اگر کسی حلقے کا نتیجہ نہیں آتا تو وجوہات پوچھی جائیں گی۔
(بشکریہ:جیو نیوز)
چیئرمین پی ٹی آئی نے نیا آرمی چیف اپنی مرضی سے مقرر کرنے کی شرط رکھی تھی: ایاز صادق
ایڈیٹر2 Views

