اسلام آباد : پاکستان کے چیف جسٹس نے خواتین کی سکرٹ کے بارے میں بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے ان الفاظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر معافی مانگتے ہیں۔
چیف جسٹس نے یہ ریمارکس عدالت میں زیر سماعت ایک مقدمے کی سماعت کے دوران دیے۔اُنھوں نے کہا کہ ملک کی آبادی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور وہ تو ان کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کہنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔
بی بی سی کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ خواتین کا بھی ملکی ترقی میں اتنا ہی کردار ہے جتنا مردوں کا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ عدلیہ اور وکالت کے شعبوں میں خواتین کا کردار مثالی ہے جس کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس نے چند روز قبل کراچی میں ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ ’ تقریر کی طوالت عورت کی سکرٹ کی طرح ہونی چاہیے جو نہ اتنی لمبی ہو کہ لوگ اس میں دلچسپی کھو دیں اور نہ ہی اتنی مختصر کہ موضوع کا احاطہ نہ کر سکے۔‘ تقریر کے دوران چیف جسٹس کے ان ریمارکس کو سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اُنھیں یہ الفاظ واپس لینے کے بارے میں بھی کہا گیا تھا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے تقریر کے دوران یہ الفاظ چرچل کے اقتباسات سے لیے تھے۔
جمعرات, اگست 27, 2026
تازہ خبریں:
- ایک اجنبی سے چند سوالات : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- نوزائیدہ ریاست، نوزائیدہ بچے اور کمزورطبقات : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- مجھے میرا بچہ واپس کر دو…“ بین کرتی ماں اور ریاست کا ضمیر : شہزاد عمران خان کا کالم
- پمز ہسپتال اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی ، 14 نومولود جاں بحق
- ایوان صدر میں پیران طریقت کا ملاکھڑا : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- خاموش گھر : نبیلہ عصمت کا افسانہ
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار

