اسلام آباد: وفاقی وزارت خزانہ نے ملکی قرضوں سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق شرح سود بڑھنےکی وجہ سےقرضوں کا حجم بڑھا، ڈالر کا ایکسچینج ریٹ بڑھنے سے بھی مہنگائی اور قرض بڑھا ہے۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2022 تک پاکستان کا قرضہ 55 ہزار 800 ارب روپے تھا، جولائی تا دسمبر ڈالر کا ایکسچینج ریٹ11 فیصد بڑھا، دسمبرتک پاکستان کے قرض میں مقامی قرضہ 62.8 فیصد ہے، دسمبرتک پاکستان کے قرض میں غیرملکی قرضہ 37.2 فیصد ہے، جولائی تا دسمبر 3.2 ارب ڈالرکا غیرملکی قرضہ لیا،2.7 ارب ڈالر واپس کیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق اس سال ملک میں مہنگائی کی شرح 28.5 فیصد رہےگی، آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہےگی، پاکستان کا پبلک ڈیبٹ تا حال رسک ہے، سال 2026 تک قرضہ معیشت کے 70 فیصد سے زائد رہنےکا خدشہ ہے، سال 2026 میں مہنگائی کی بڑھنے کی شرح 6.5 فیصد ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ سال 2026 تک ڈالرکا ایکسچینج ریٹ 6 فیصد مزید بڑھنےکا امکان ہے، رواں مالی سال معاشی شرح نمو 0.8 فیصد رہنےکا امکان ہے، رواں مالی سال کے بجٹ میں معاشی ترقی کی شرح 5 فیصد رکھنے کا ہدف تھا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال2024 میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 21 فیصد رہنےکا امکان ہے، مالی سال 2025 میں مہنگائی بڑھنےکی شرح 7.5 فیصد رہنےکا امکان ہے، مالی سال 2024 میں معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنےکا امکان ہے، مالی سال2025 میں معاشی ترقی کی شرح 5 فیصد رہنے کا امکان ہے، مالی سال 2026 میں معاشی ترقی کی شرح 5.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
(بشکریہ:جیو نیوز)
بدھ, اکتوبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟

