ملتان۔ (اے پی پی):قومی اسمبلی کے سابق رکن نواب حیات اللہ خان ترین طویل علالت کے بعد لاہورمیں انتقال کرگئے۔وہ ڈاکٹرزہسپتال میں زیرعلاج تھے۔
حیات اللہ ترین کاتعلق تحصیل دنیاپورسے تھا۔میلسی اوردیگرعلاقوں میں ان کی زرعی زمینیں تھیں ۔وہ 1985ءمیں پہلی بار صوبائی اسمبلی کاالیکشن لڑے ، پی پی 178میں ان کے مد مقابل سعیداحمدخان منیس نے کامیابی حاصل کی ۔1988ءمیں وہ اسی حلقہ سے دوبارہ پی پی کے ٹکٹ پرمیدان میں آئے اورکامیابی حاصل کی ۔1990ءمیں وہ کہروڑپکاضلع لودھراں سے آئی جے آئی کے ٹکٹ پرایم این اےمنتخب ہوئے۔
فروری 2008ءمیں انہیں پیپلزپارٹی کےٹکٹ پراسی حلقے سےکامیابی ملی ۔ بعد ازاں انہوں نے اس نشست سے استعفیٰ دیدیا۔اگست 2010ءدوبارہ پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑااورناکام ہوگئے ۔ان کے دورمیں علاقے میں بہت سے ترقیاتی کام ہوئے سڑکیں اورسکول بنے جبکہ کئی سکولوں کو اپ گریڈ کیاگیا۔
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا

