لاہور:لاہور ہائی کورٹ نے مال روڈ پر سیاسی جماعتوں کو دھرنے کرنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے انہیں رات 12 بجے تک اسے ختم کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس شاہد کریم اور جسٹس شاہد جمیل پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی جس پر کچھ دیر قبل فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا، تاہم فیصلہ سناتے ہوئے عدالتِ عالیہ نے سیاسی جماعتوں کو دھرنا کرنے کی مشروط اجازت دے دی۔عدالتِ عالیہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی پاسداری نہ کرنے پرحکومت پنجاب کوکارروائی کی اجازت ہوگی جبکہ دھرنا پُرامن ہوگا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔سماعت کے دوران عوامی تحریک کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق، پیپلزپارٹی کے لطیف کھوسہ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمٰن اور درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔خیال رہے کہ لاہور کے مال روڈ پر سیاسی جماعتوں کا دھرنا روکنے کے لیے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ سمیت 2 تاجروں نے درخواست دائر کی تھی۔سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ ہوم سیکریٹری عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے، وہ ذمہ دار ہیں انہیں عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا۔
جمعرات, اگست 27, 2026
تازہ خبریں:
- ایک اجنبی سے چند سوالات : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- نوزائیدہ ریاست، نوزائیدہ بچے اور کمزورطبقات : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- مجھے میرا بچہ واپس کر دو…“ بین کرتی ماں اور ریاست کا ضمیر : شہزاد عمران خان کا کالم
- پمز ہسپتال اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی ، 14 نومولود جاں بحق
- ایوان صدر میں پیران طریقت کا ملاکھڑا : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- خاموش گھر : نبیلہ عصمت کا افسانہ
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار

