گورنر پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہنگامہ خیز رہا، حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی اور شور شرابا کیا۔
اسپیکر سبطین خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے 12 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔
پنجاب اسمبلی کے ایوان میں 264 اراکین اسمبلی موجود تھے۔ ایوان میں پی ٹی آئی اور ق لیگ کے 149 جبکہ مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے 115 ارکان موجود تھے۔
ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی اور شور شرابا کیا جبکہ خواتین ارکان بھی پیش پیش رہیں۔
اسمبلی کی کارروائی میں کئی بلز منظور کیے گئے، حکومت کی جانب سے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے خلاف قرارداد بھی منظور کی گئی۔
بعدازاں اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اجلاس 26 دسمبر دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق اسمبلی اجلاس سے قبل تحریک انصاف اورق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس میں 174 ارکان شریک ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے 164 اور ق لیگ کے 10 ارکان شریک ہوئے۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

