مسلسل محنت ، تخلیقیت اور قلم کی مزدوری کو آبرو مند بنانے والا مستنصر حسین تارڑ اب اس مقام پر ہے کہ وہ اپنی تحریر کو ناول کہے ، رپورتاژ، سفرنامہ ہزاروں لاکھوں اس کے قاری اس کے کہے کو مانتے ہیں مبصر یا ناقد کی ایسی تیسی ! اب اس کے پاس اخبار کا کالم بھی ہے جس میں وہ اشفاق احمد کی طرح اپنے اقوال زریں لوگوں کی یادداشت پر چسپاں کرنے کا خواہاں محسوس ہوتا ہے ۔
مجھے کراچی کی وہ کانفرنس بھی یاد ہے جس میں اس نے برملا کہا تھا کہ میں راوی کا وسنیک ہوں مجھے گنگ و جمن سے کچھ لینا دینا نہیں میں نے بھی اس کے اعلان پر تالیاں بجائیں مگر میرے ایک دو دوست رنجیدہ تھے کہ اسے بھارتی سفیر یا قنصلر کی موجودگی میں نہیں کہنا چاہیئے تھا کہ اس طرح بھارت کا ویزا ہمیں آسانی سے نہیں ملا کرے گا ۔
میں تارڑ سے دوستی کا دعویدار تھا جب تک اس نے حارث خلیق کی تجویز پر اکادمی ادبیات کے انعام کو اردو اور سرائیکی کے دو بڑے لکھنے والوں میں مساوی تقسیم کرنے کے عمل کو سازش خیال نہیں کیا تھا اور تقریبا یہ نہیں کہا تھا کہ ادبی اعزاز اور انعام مائی فٹ ! پھر بھی جب معلوم ہوا کہ تارڑ کا اگلا ناول پنجابی میں ہے اور بھگت سنگھ کے بارے میں ہے تو میرا قیاس یہ تھا کہ جہاں وہ عبدالمجید شیخ کے اس قصے سے ضرور متاثر ہوگا (بھگت سنگھ اور خونی دائرہ ۔۔قصے لاہور کے ) دوسرے وہ اپنے پسندیدہ منٹو ( آتش پارے) عبداللہ حسین ( اداس نسلیں ) غلام عباس ( رینگنے والے ) سے بھی کچھ چنگاریاں لے گا کہ وہ اس سے پہلے جلیانوالہ باغ کے سانحے پر لکھ چکے ہیں البتہ اس مرتبہ وہ خواجہ خورشید انور تک پہنچے گا جو بھگت سنگھ کے ساتھی تھے اور کہا جاتا ہے کہ پولیس میں موجود اپنے عزیزوں کی بدولت شاید ” وعدہ معاف” یا وعدہ فراموش ہو گئے تھے فیض کی یاد داشتوں میں بھی اپنے ہوسٹل کے ساتھی عظیم خواجہ خورشید انور کے سامان میں بم بنانے کی ترکیبوں یا بھگت سنگھ کے پمفلٹوں کا ذکر ہے ۔
تاہم تارڑ نے شاہ حسین کے کلام سے استفادہ کیا ہے اور پھر بھگت سنگھ کی لائل پور کے ایک گاوں میں بنائے میوزیم میں رکھی چکی ، چرخہ اور چادر کو اپنی بے مثال انشا پردازی کا محور بنایا ہے
ایک آدھ جگہ محسوس ہوا کہ شاہ حسین کے کلام سے جو نوٹس لئے گئے ان میں دو ایک ناول میں نہیں کھپ سکے تو پھر اس کے لئے ایک باب اضافی لکھنا پڑا ۔
بھگت سنگھ کو لاہور کے حاکموں نے ہیرو بنانا چاہا تھا اور ایک شاہراہ اس سے منسوب کرنی چاہی تو کچھ "ملی حلقے ” اس طرح تڑپے کہ نوٹیفکیشن واپس ہو گیا ۔
بہر طور تارڑ کا یہ دوسرا پنجابی ناول زور دار ہے جس میں بھگت سنگھ کو دلا بھٹی کے نئے روپ میں دکھایا گیا تھا کہ اس سے منسوب ایک وار میں کہا گیا تھا
میں بھناں دلی دے کنگرے تے دیواں شکر وانگوں بھور
میں بناں اکبر دیاں رانیاں تے لیاواں ڈنگراں وانگوں ٹور
(بے بسی کے مقدر سے آگاہ باغی کی للکار اپنی جگہ مگر اکبر کی رانیوں کو باندھ کے مویشیوں کی طرح ہانک کے لانے کی آرزو حاکموں کے زور تسخیر اور مردانہ تعصب کی مظہر ہے )
تارڑ نے ایک صدی بعد کے لاہور کا پھیرا سولی کو چوم کر چڑھ جانے والے بھگت سنگھ کی آتما کو اس لئے لگوایا ہے کہ ان مختلف مقفل عمارتوں سے ” زندہ دلان لاہور ” کو آگاہ کرے کہ ان کی سیاسی اہمیت کیا ہے ابھی تو تارڑ نے وہ نکتہ نہیں چھیڑا جو کے کے عزیز نے تاریخ کے قتل میں اٹھایا کہ 23 مارچ کو بھگت سنگھ کی پھانسی کی سالانہ برسی سے ہراساں یونینسٹ حکومت پنجاب نے مسلم لیگ کو 23 مارچ 1940 کو اس مقام پر جلسے کی کیوں اجازت دی کہ وہاں مینار پاکستان بن سکے مینار بھگت سنگھ نہ بن سکے ۔
پنجابی میں تارڑ سے یہ ناول لکھوانے میں سنگ میل کے جواں سال افضال احمد بھی پر اشتیاق رہے ہوں گے کہ انہوں نے ناول کے اختتام پر دو ورق لکھے ہیں تارڑ کے فن کے بارے میں اور پنجاب میں اس ناول کی پذیرائی کے امکان کے بارے میں ۔
مینار پاکستان اور بھگت سنگھ مینار: مستنصر حسین تارڑکے نئے ناول پر ڈاکٹر انوار احمد کا تبصرہ
ایڈیٹر24 Views

