جب میں ایف سی کالج میں جب زیر تعلیم تھا تو ڈاکٹراختر شمار صاحب سے اقبالیات کا ایک کورس پڑھا تھا پھر جب ایف سی کالج اردو سوسائٹی کا صدر منتخب ہوا تو ڈاکٹر صاحب سے ہر دوسرے روز ملاقات ہوتی اور کافی دیر تک ان کی شخصیت سے فیض حاصل کرتا ۔۔
ڈاکٹر صاحب ان ملاقاتوں میں اپنی زندگی کے دلچسپ واقعات سناتے، وہ ایک انتہائی درویش صفت انسان تھے، تصوف سے عشق تھا اور اس پر بات کرنے کا شوق بھی، استاد محترم نے اردو سے حقیقی معنوں میں روشناس کرایا ایک دفعہ میری کسی غلطی کی وجہ سے خفا ہوگئے تو مجھے منانے کے لیے مصلحتاً جھوٹ بولنا پڑا۔۔ ڈاکٹر صاحب فوری طور پر شفقت کرنے لگے اور سمجھایا کہ بیٹا ایسے نہیں ایسے کرتے ہیں ،
ابھی کچھ دن پہلے بات ہوئی تو فرمانے لگے کہ طبعیت ناساز ہے دعا کرنا لیکن کیا پتا تھا کہ اس کے بعد وہ کبھی بات ہی نہیں کریں گے
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

