اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر کے نوجوانوں کو احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج آپ کا حق ہے، نوجوان میرے لیے نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ آن لائن سوالات کے جوابات دینے سے قبل انہوں نے ٹی وی پر کہا کہ سیاست دانوں کی بکروں کی طرح نیلامی ہورہی ہے، بیرونی ملک سے سازش ہورہی ہے، آج قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس سمت جائے گی، اگر نوجوان چپ بیٹھے رہے تو وہ برائی کا ساتھ دیں گے، آپ سب اپنی آواز بلند کریں میرے لیے نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے لیے کیوں کہ اس وقت پاکستان کے مستقبل کی جنگ لڑی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک کو پاکستان کی لیڈر شپ نہیں پسند تو وہ پندرہ بیس ارب روپے خرچ کرکے ضمیر فروشوں کو بکروں کی طرح خرید کر حکومت گرادے تو ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟ یہ آپ کا ملک ہے اور اس کے لیے آپ کو آگے آنا ہوگا، احتجاج آپ کا حق ہے، پرامن احتجاج سے سب سے بڑا خوف غداروں کو ہوتا ہے وہ لوگ خوف زدہ ہوتے ہیں جو ملک کو غلام بنانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی ملک کے خلاف عالمی سازش کی توثیق کرچکی، میں چاہتا ہوں کہ ملک بھر کے نوجوان آگے آئیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں ، احتجاج پرامن ہو اور اس میں ملک کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
بعدازاں لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج پر کسی قسم کی تنقید قبول نہیں کیوں کہ فوج نے ہی ملک کو اکٹھا کیا ہوا ہے۔عمران خان نے کہا کہ اپنے ملک کے ساتھ غداری قبول نہیں کریں گے، غداروں کے حوالے سے قانونی ماہرین سے بات ہوئی ہے آج رات لیگل ایکشن سے متعلق بڑا فیصلہ کریں گے، ہم ان سب پر مقدمہ درج کریں گے، دیکھ رہے ہیں سازشیوں کے خلاف کیا کیا قانونی کارروائی ہوسکتی ہے، ہم نے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا پلان تیار کرلیا ہے، کل آپ دیکھیں گے میں ان کا مقابلہ کیسے کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف تو ہیں ہی غلام، یہ لوگ پیسے کی پوجا کرتے ہیں، شہباز شریف اگر ایسے ہی زندگی گزارنی ہے تو اس سے اچھا مرجائیں۔
( بشکریہ : ایکسپریس نیوز )
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

