بتیس سال کے صحافتی کیریئر کے دوران مجھے صحافت کے جن درخشندہ ستاروں کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے ان میں سے ایک محترم غضنفر علی شاہی بھی ہیں۔ فروری 1997ء میں جب مجھے نوائے وقت کے نیوز روم سے رپورٹنگ میں ٹرانسفر کیا گیا تو اس وقت شاہی صاحب میرے چیف رپورٹر تھے۔ اور اسی برس وہ مسلسل تیسری بار ملتان پریس کلب کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔
پریس کلب کی سیاست میں میرا تعلق محترم عبدالجبار مفتی صاحب کے جرنلسٹس گروپ کے ساتھ تھا۔ عام خیال یہی تھا کہ شاہی صاحب اپنی رپورٹنگ سربراہی کے ذریعے میرے لیے پریشانی کا باعث بنیں گے۔۔۔ لیکن ۔۔ میرا محترم شاہی صاحب کی قیادت میں نوائے وقت کیلئے رپورٹنگ کا تجربہ یوں شاندار اور پروفیشنل رہا کہ انہوں نے مجھے بطور سپورٹس رپورٹر آگے بڑھنے میں مدد دی۔ شاہی صاحب نے ہمیشہ میری رہنمائی کی اور خبریت میں کبھی بھی اپنے کسی تعلق واسطہ کو حائل نہ ہونے دیا۔۔مجھے یاد ہے کہ ملتان پریس کلب کا صدر بننے کی ہیٹرک مکمل ہونے پر ان کے ایک دیرینہ دوست ملتان کرکٹ کلب ایم سی سی کے روح رواں ۔اس وقت کے مسلم لیگی ایم پی اے اور نامور قانون دان مولوی سلطان عالم انصاری انہیں مبارکباد دینے کے لیے پھولوں اور مٹھائی کے ٹوکرے کے ساتھ دفتر آئے ۔ اتفاق سے اس وقت مولوی صاحب کے کلب ایم سی سی کے زیراہتمام کھیلے جانیوالے آل پاکستان کرکٹ ٹورنامنٹ سے متعلق ایک سکینڈل زیر بحث تھا۔ مولوی صاحب کی خلوص بھری مبارکباد وصول کرنے اور ان کی روانگی کے بعد شاہی صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے کہ مولوی صاحب سے میرا تعلق واسطہ اپنی جگہ لیکن آپ نے آل پاکستان کرکٹ ٹورنامنٹ سے متعلق سکینڈل کی خبر لازمی جاری کرنی ہے اور بعد میں اسی سکینڈل کے پس منظر میں محترم شاہی صاحب نے میری تحریر کردہ سپورٹس ڈائری کی بھی نوک پلک سنواری۔۔ مولوی صاحب نے شاہی صاحب سے جو بھی گلے شکوے کیے اور جہاں جہاں سے بھی ان پر دباؤ ڈلوایا یہ ایک الگ داستان ہے۔۔ لیکن شاہی صاحب نے براہ راست سارا پریشر خود برداشت کیا اور مجھے کسی دبائو کا شکار نہ ہونے دیا۔محترم شاہی صاحب جب نوائے وقت کو خیر باد کہہ کر بحیثیت چیف رپورٹر روزنامہ ایکسپریس کا حصہ بنے تو مجھے بطور سپورٹس رپورٹر ان کے ساتھ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کا اعزاز حاصل رہا۔۔۔
شاہی صاحب کی ذات سے کسی کو چاہے لاکھ اختلاف رہے ہوں ۔۔ لیکن انہوں نے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں ہمیشہ میری رہنمائی اور سرپرستی کی۔
جمعرات, اکتوبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار

