اسلام آباد : چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوامی مارچ کے دوران آصفہ بھٹو زرداری پر حملہ کیا گیا، آصفہ بی بی کو عوامی مارچ کے دوران ڈرون کیمرے کے لیے نشانہ بنایا گیا، ہم اس حملے کی مذمت کرتے ہیں اور آصفہ بھٹو پر حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت ہر معاملے پر ناکام ہوگئی، پاکستان کے عوام کو سلیکٹڈ وزیراعظم کو مسترد کردیا، عوام جہموریت کے ساتھ ہیں اور وہ صاف شفاف انتخابات چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنا منتخب نمائندہ جن سکے جو ان کے مسائل حل کرے۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے پیپلزپارٹی کے عوامی حقوق مارچ میں شرکت کرکے اپنا کام کردیا، اب ارکان پارلیمنٹ کی ذمے داری ہے ک وہ اپنا کردار ادا کریں اور تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دیں۔انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنا فیصلہ سنادیا، اب ہم عوامی نمائندوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اوپر لگے اس داغ کو دھوئیں، اپنی ذمے داری ادا کرتے ہوئے عوام کی امنگوں اور امیدوں پر پورا اترتے ہوئے اس سلیکٹڈ وزیراعظم کو گھر بھجیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کے حامی ہیں، ہم جمہوری طریقے سے اس وزیراعظم کو گھر بیجھنا چاہتے ہیں، اگر ہم اپنے عوامی مارچ کے دوران مطالبہ کرتے کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں ورنہ یہ دھرنا جاری رہے گا، تو آج بھی یہ دھرنا جاری ہوتا مگر ہم نے ایسا نہیں کیا کیونکہ ہم جمہوری سوچ رکھتے ہیں، ہم جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کل وزیراعظم عمران خان نے سابق صدر اصف زرداری کو دھمکی دی گئی، جب شہید بینظیر کو شہید کیا گیا اس وقت میں بچہ تھا، اب میں بڑا ہوگیا ہوں،انہوں نے کہا کہ میں مخالفین کو کہتا ہوں کہ ہم پر امن سیاست کر رہے ہیں، آپ بھی سیاست کریں لیکن اگر آپ ہمیں زندگی اور موت کی دھمکی دیں گے تو پھر آپ کو اس کے نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا، یہ کوئی مزاق نہیں ہے، پاکستان ایک جدید ریاست ہے، ہم 2020 میں جی رہے ہیں، ہمارا حق ہے کہ ہم اپنی آواز اٹھائیں، بات کریں، جمہوری جدوجہد کریں، ہمیں اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا جمہوری حق دیا جائے گا، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ پریشانی کا شکار ہیں تبھی وہ اس طرح کے دھمکی آمیز بیانات دے رہے ہیں۔
انہوں عوامی مارچ کے دوران آصفہ بھٹو زرداری پر حملہ کیا گیا، آصفہ بی بی کو عوامی مارچ کے دوران ڈرون کیمرے کے لیے نشانہ بنایا گیا، ہم اس حملے کی مذمت کرتے ہیں، ایسا حملہ ہمارے لیے نا قابل برداشت ہے، یہ حملہ ہمارے لیے، ہمارے خاندان کے لیے ایک دھمکی آمیز پیغام تھا، ہمیں یہ پیغام اس لیے دیا گیا کہ کیونکہ ہم ملک میں جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہمارے خاندان کے کئی افراد کو شہید کیا گیا، اب بہت ہوگیا، اہم ہم ڈرنے والے نہیں، اب ہم ایسے حملے برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا اگر ہمارے اہل خانہ کے ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو ہم ایسا رد عمل دیںگے جو ایسے عناصر کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی،ہم نے بندوق استعمال نہیں لیکن بندوق استعمال کرنا جانتے ہیں، ہم پر امن ہیں اور پر امن رہیں گے۔انہوں نے کہا ہم پر امن ہیں، پر امن رہنا چاہتے ہیں لیکن اگر آپ ہمیں زندگی اور موت کی دھمکی دیں گے تو ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔وزیراعظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان نے ہمارے خلاف کوئی کارروائی کرنی ہے تو آج ہی کرلیں، کل انہیں ہمارے خلاف انتقامی کارروائی کا موقع نہیں ملےگا۔انہوں نے کہا کہ کل ہم تحریک عدم اعتماد کے ذریعے آپ کو گھر بھیجیں گے، پھر صاف شفاف الیکشن کے ذریعے ایک منتخب حکومت آئے گی۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
بلاول بھٹو زرداری کا آصفہ بھٹو پر مبینہ ڈرون کیمرہ حملے کی تحقیقات کا مطالبہ
ایڈیٹر0 Views

