ملتان:لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے پیر کے روز سوشل میڈیا کی مشہور شخصیت قندیل بلوچ کے بھائی اور قتل کیس کے مرکزی ملزم محمد وسیم کو فریقین کے درمیان مصالحتی معاہدے پر حلف نامہ جمع کرانے کے بعد بری کر دیا۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ میں گواہوں کے بیانات سے منحرف ہونے کے علاوہ قندیل کی والدہ کی جانب سے مصالحتی معاہدہ جمع کرانے پر وسیم کی عمر قید کی سزا منسوخ کر دی۔ماڈل کورٹ نے 27 ستمبر 2019 کو کیس میں وسیم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔وکیل صفائی سردار محبوب نے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سہیل ناصر کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ماڈل اور شکایت کنندہ کے والد انتقال کر چکے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ میں گواہان بھی اپنے بیانات سے منحرف ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیشن کورٹ نے فریقین کے درمیان تصفیہ کو نظر انداز کر دیا۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے وسیم کو بری کر دیا۔
واضح ہو کہ وسیم پر اپنی بہن اور ماڈل قندیل بلوچ کا گلا گھونٹ کرہلاک کرنے کا الزام تھا۔کیس میں اب تک قندیل کے دو بھائیوں سمیت پانچ ملزمان اور تین دیگر کو بری کر دیا گیا ہے۔
منگل, ستمبر 8, 2026
تازہ خبریں:
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم

