ملتان:لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے پیر کے روز سوشل میڈیا کی مشہور شخصیت قندیل بلوچ کے بھائی اور قتل کیس کے مرکزی ملزم محمد وسیم کو فریقین کے درمیان مصالحتی معاہدے پر حلف نامہ جمع کرانے کے بعد بری کر دیا۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ میں گواہوں کے بیانات سے منحرف ہونے کے علاوہ قندیل کی والدہ کی جانب سے مصالحتی معاہدہ جمع کرانے پر وسیم کی عمر قید کی سزا منسوخ کر دی۔ماڈل کورٹ نے 27 ستمبر 2019 کو کیس میں وسیم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔وکیل صفائی سردار محبوب نے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سہیل ناصر کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ماڈل اور شکایت کنندہ کے والد انتقال کر چکے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ میں گواہان بھی اپنے بیانات سے منحرف ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیشن کورٹ نے فریقین کے درمیان تصفیہ کو نظر انداز کر دیا۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے وسیم کو بری کر دیا۔
واضح ہو کہ وسیم پر اپنی بہن اور ماڈل قندیل بلوچ کا گلا گھونٹ کرہلاک کرنے کا الزام تھا۔کیس میں اب تک قندیل کے دو بھائیوں سمیت پانچ ملزمان اور تین دیگر کو بری کر دیا گیا ہے۔
جمعہ, اکتوبر 30, 2026
تازہ خبریں:
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ

