سپریم کورٹ نے 16 ہزار ملازمین کی برطرفی کے خلاف نظرثانی اپیلیں خارج کر تے ہوئے ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے 16 ہزار سرکاری ملازمین کی برطرفی کے خلاف دائر اپیلوں پر گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔
سپریم کورٹ نے پانچ رکنی بینچ نے چار ایک کے تناسب سے دائر اپیلیں خارج کیں، جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔
سپریم کورٹ کے جج عمر عطا بندیال نے فیصلہ پڑھ کر سنایا جبکہ عدالت کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی برطرفی کے خلاف نظرثانی اپیلیں خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 1996 سے 1999 تک برطرف ہونے والے سرکاری ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاہم مس کنڈکٹ اور کرپشن پر نکالے گئے ملازمین بحال نہیں ہوں گے، ان ملازمین کو بحال کیا جائے جن کے لیے ٹیسٹ یا انٹرویوز ضروری نہیں تھے، گریڈ 8 سے 16 تک کے جن ملازمین کے لیے ٹیسٹ انٹرویو درکار تھے وہ اب دیں گے۔
فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ معزز عدالت نے سرکاری ملازمین کو اسی تاریخ سے بحال کرنے کا کہا ہے جس سے انہیں برخاست کیا گیا تھا۔
سرکاری ملازمین کے وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ معزز عدالت نے 16 ہزار ملازمین کو بحال کر کے ایک بڑا انسانی المیہ رونما ہونے سے بچا لیا ہے، یہ ان سب لوگوں کی کامیابی ہے جنہوں نے اس مشکل گھڑی میں صبر اور ہمت سے کام لیا۔
(بشکریہ: جیونیوز)
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

