گلاسگو میں COP26کانفرنس میں آب و ہوا کی کثافت اور زمینی تپش کو روکنے کےلئے عالمی سوچ بچار ہورہا ہے۔لیکن کثافت اور تپش پھیلانے والے بڑے عامل کوئلہ، گیس اور پٹرول (حیاتیاتی ایندھن) کے استعمال کو 2030تک آدھا کرنے اور 2050تک زمینی تپش کو قبل از صنعتی انقلاب کے درجہ حرارت سے 1.5 سیلسیس تک محدود رکھنے یا کاربن کے زیرو اخراج کا ہدف حاصل کرنے کیلئے خالی خولی دعوے تو کئے جارہے ہیں لیکن ٹھوس اقدامات کو ایک دوسرے کے گلے منڈھنے پہ اکتفا کیا جارہا ہے۔ جبکہ کانفرنس سے باہر ’’ماحولیاتی پرولتاریہ‘‘ اور نوجوان نسل کرہ ارض، ماحولیات اور انسان کی بقا کے لئے ایکو اشتراکیت اور انسانی و ارضی ساجھے داری کا تقاضہ کررہی ہے۔
ماحول اب نہیں تو کبھی نہیں کا بنتا نظر آرہا ہے۔ ماحولیاتی تباہی کا قرض تو جدید صنعتی بڑے سرمایہ دارانہ ملکوں کے سر ہے۔ جس میں امریکہ، یورپ اور برطانیہ سرفہرست ہیں۔ اب گروپ 20ممالک ہیں جو 80 فیصد آلودگی اور زمینی تپش کے ذمہ دار ہیں۔
حال ہی میں ترقی یافتہ ہونے والے ممالک جن میں چین، انڈیا، روس اور جنوبی افریقہ شامل ہیں اپنے پیش رو صنعتی ممالک کی تباہ کن روش پر چلنے پر بضد ہیں۔ امریکہ نے 2030تک کاربن کے پھیلائو اور حیاتیاتی ایندھن کے استعمال کو آدھا کرنے کا وعدہ تو کیا ہے، لیکن کانگریس میں صدر بائیڈن کا منصوبہ خطرے میں ہے۔
یورپ ایندھن کی کمی کی لپیٹ میں ہے اور مزید گیس کا طلبگار ہے۔ چین نے وعدہ کیا ہے کہ 2030تک کاربن کا اخراج کم ہوتا جائے گا لیکن ختم 2060میں ہوگا۔ بھارت نے اپنی ’’ترقی‘‘ کو فوقیت دیتے ہوئے کوئلے کے استعمال کو جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہوئے 2070 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
رہے 20 فیصد پسماندہ اور غریب ممالک جنہیں اس ماحولیاتی تبدیلی کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے کی اشک شوئی کیلئے 100ارب ڈالرز سالانہ دینے کا جو وعدہ 1999 میں کیا گیا تھا اس کے وفا ہونے کے لئے2023 کی تاریخ دے دی گئی ہے۔ لگتا ہے کہ پیرس سمٹ (2015) کے بعد یہ 26ویں کانفرنس بھی خالی خولی وعدوں سے آگے نہ جاسکے گی۔
آخر یہ ماحولیاتی تباہی یا ایکو بریک ڈائون ہے کیا؟ ویسے تو کرہ ارض 4.5 ارب سال پہلے طویل تر ارتقائی عمل سے وجود میں آیا تھا- حضرت انسان اپنی ھومو اوتار میں 25 لاکھ سال پہلے منظر پر آئے اور کہیں جاکر اشرف المخلوقات ہومو سیپین (Homo Sapiens) صرف دو لاکھ برس ہوئے مشرقی افریقہ میں نمودار ہوئے۔ لیکن ماہرین ارضیات کے مطابق برفانی ادوار کے خاتمے پر قدرے معتدل ماحول کا دور ہولوسین (Holocen) ۔ تقریباً 11,700 سال پہلے شروع ہوا۔
پتھر، دھات اور لوہے کے پیداواری ادوار آئے، زراعت و تجارت کو فروغ ملا اور تہذیبیں وجود میں آنے لگیں۔500برس پہلے سائنسی و علمی آگہی پھیلی اور صنعتی انقلاب کا آغاز ہوا جو گزشتہ 200برس میں سرمایہ دارانہ اور نوآبادیاتی صورتوں میں کرہ ارض پر چھا گیا۔
یورپین اور امریکی سرمایہ داروں اور نو آبادکاروں نے جہاں محنت کشوں کے جم غفیر کے استحصال سے حاصل شدہ قدر زائد سے اور نوآبادیات کے معدنیاتی، زرعی، ایندھن اور خام مال کے ذرائع کی بدترین لوٹ سے عالمی سامراجی نظام تشکیل دیا وہاں کرہ ارض اور اس کے ماحولیاتی توازن اور ایکو سسٹم کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔
گزشتہ ڈیرھ سو برس میں سرمایہ داری اور نوآبادیاتی نظام سے خلاصی کیلئے محنت کشوں اور مظلوم قوموں کی سماجی و قومی آزادی کےلئے دنیا بھر میں طبقاتی و قومی جنگیں ہوئیں اور بیسویں صدی میں سوشلزم اور عالمی سرمایہ داری میں معرکہ آرائی رہی۔
اب سائنسدان ایک نئے ارضیاتی عہد کی نشاندہی1950سے بیان کررہے ہیں جسے ایتھنو پوسین (Athenopecene ) دور قرار دے رہے ہیں جس میں انسان نے کرہ ارض، ایکو سسٹمز اور ماحولیات اور انسان کے باہم نامیاتی توازن کو توڑ پھوڑ دیا ہے۔
اس ارضیاتی ایتھنوپوسین دور میں عالمی اجارہ دارانہ سرمایہ دارانہ بالا دستی کے جلو میں ہم دنیا بھر میں قحط سالی، طوفان، سونامی، جنگل کی آگ، سمندری سطح میں بلندی، جنگلات کی تلفی، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور سماجی و طبقاتی تفریق میں گوناگوں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔
مصنوعی کیمیائی عاملوں، ایٹمی تابکاری، پلاسٹکس، پیٹروکیمیکلز صنعتکاری ، کھادیں اور حیاتیاتی ایندھن (کوئلہ، گیس اور پٹرول) کے استعمال میں بے پناہ اضافے سے انسان اور زمین میں تعلق برباد ہوچلا ہے۔
200سے زائد نیوکلیئر ٹیسٹ صرف امریکہ نےکئے ہیں اور درجن بھر ملک اس دوڑ میں شامل ہیں۔ دنیا میں ایک نیوکلیئر جنگ سے ایسی نیوکلیئر سردی ہوگی کہ نباتات و حیاتیات کا نام و نشان نہیں رہے گا۔
حیاتیاتی ایندھن کے بڑھتے ہوئے استعمال سے فضا میں کاربن 2021میں 420 ہو چکا ہے اور یہ 450PPM ہونے جارہا ہے جو کاربن کی آخری حد ہے۔ زمینی تپش میں بنیادی کردار زمینی ایندھن کا بے جا استعمال ہے جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین و دیگر گرین گیسیں پیدا ہوتی ہیں جس سے درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔
اب تک ترقی یافتہ ممالک نے کاربن کی پیداوار کم کرنے کے جو وعدےکئے ہیں ان کے پیش نظر ماہرین کی رائے ہے کہ 2100تک درجہ حرارت 2.7س یلسیس تک پہنچ جائے گا جو زندگی کے لئے موت کا سامان ہوگا۔
انسان اور کرہ ارض کا مستقبل عالمی اجارہ دار صنعتی و مالیاتی کارپوریشنز اور ان کے محافظ سرمایہ دارانہ ممالک کے ہاتھوں میں یرغمال ہے۔حیاتیاتی ایندھن کا استعمال ترک نہ کرنے، درجہ حرارت 1.5سیلسیس سے تجاوز، زہریلی گیسوں، کاربن، کیمیائوں،مصنوعی خوراک، پلاسٹکس اور ہر طرح کی تابکاری سرمایہ داری سے جڑی ہے اور اس کا سرمایہ ہے۔
اس نفع خور استحصالی اور انسان و ارض دشمن نظام کے ہوتے ہوئے انسان کی خیر ہے نہ کرہ ارض کی۔اب انسان کے سامنے کوئی اور راستہ نہیں کہ وہ زندگی اور زمین کو بچانے اور قدرت سے اپنا نامیاتی رشتہ بحال کرنے کےلئے میدان میں اْترے۔
خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک کے عوام جب تک انسانی و قدرتی شراکت داری کے لئے علم بلند نہیں کریں گے انسان اور کرہ ارض کا مستقبل خطرے میں رہے گا۔ انسانوں اور قدرت کی قیمت پر چند لوگوں کے لئے پرتعیش زندگی نہیں،انسان اور قدرت کے مابین آسودہ اور نامیاتی شراکت داری ہونی چاہئے۔ اٹھو اور بچالو!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
Previous Articleیاسر پیرزادہ کا مکمل کالم:’ کائنات میں نا معلوم کیا ہے ؟‘
Next Article عطا ء الحق قاسمی کا کالم:نقل در نقل !

