مُجھے معلوم ہی کب تھا ؟؟
مرے معصوم خوابوں کی زمانہ یوں سزا دے گا
سِتم کی آنچ پر رکھ کر مری آنکھیں جلا دے گا
کہ جسم و جاں کو میری پھُونک کر یوں راکھ کر دے گا
مری ہستی مِٹا دے گا مُجھے یوں خاک کر دے گا
مُجھے معلوم ہی کب تھا؟
مرا آنچل کہ جس میں کہکشاں کے رنگ سجتے تھے
وہ آنچل ایک دن میرے لہو سے تربتر ہوگا
جہاں عِصمت بھی میری جاں بھی میری چھین لی جائے
وہ مقتل گاہ نہیں ہوگی وہ میرا اپنا گھر ہوگا
مُجھے معلوم ہی کب تھا؟؟؟
مگر تُو یاد رکھ اِس بنتِ حوا کا خُدا بھی ہے
فلک پر بیٹھ کر جو اس زمیں پرجھانکتا بھی ہے ،،،
تو بس پھر سوچ لے ظالم!
جو ناحق خُون سے لکھی ہے تُونے داستانِ غم
کہ اس دلسوز قِصے کا بھلا عُنوان کیا ہوگا؟
مرے آنگن میں جو کھیلا گیا ہے کھیل وحشت کا
ستمگر سوچ لے تُو بھی ترا انجام کیا ہوگا ۔۔۔۔
منگل, ستمبر 8, 2026
تازہ خبریں:
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

