کئی روز سے ایک خبر گردش کر رہی تھی کہ تبدیلی سرکار نے مختلف سرکاری محکموں سے بارہ،چودہ ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کاارادہ باندھ لیاہے۔ان سرکاری ملازمین پر الزام یہ ہے کہ ان کی تقرری اور ترقی پی پی پی کے دورحکومت میں ہوئی تھی۔اس خبر پر پہلے پہل عمل درآمد کا علم کل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھ کر ہوا جس کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے پر عمل درآمد کی آڑمیں حکومت نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز، خبر رساں ادارے،اے پی پی کے ملازمین کو ان کی ملازمتوں سے فارغ کر کے کر دیا ہے۔اپنی ملازمت سے اچانک ہاتھ دھو بیٹھنے والوں میں مشہور و معروف بے باک صحافی، شاعر، ادیب اور دانشور رضی الدین رضی بھی شامل ہیں۔رضی جیسے باخبر، حساس اور صحافتی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھنے والے صحافی سے خبر رسانی کے کسی ادارے کو محروم کر دینا، ادارے کے ساتھ ناانصافی اور ظلم تو ہے ہی،اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے نبھا تے ہوئے رزق حلال کمانے والوں کی بڑی سفاکانہ طریقے سے حوصلہ شکنی بھی ہے۔یہ درست ہے کہ کوئی بھی شخص ناگزیر نہیں ہوتا، ادارے چلتے رہتے ہیں،مگرجب تک کسی اہل اور اپنے کام سے محبت کرنے والے ایک شخص کا متبادل پیدا نہیں ہو جاتا، اس وقت تک ادارے کسی معذور کی طرح لڑکھڑا کر گرتے پڑتے ہی چلتے ہیں۔
اس خبرنے پرانے زخم تازہ کر دیئے ہیں، نا امیدی کے اس دور خرابی میں، جہاں کوئی بھی شے ڈھنگ کی ہے نہ اپنے مقام پر ہے،تبدیلی سرکار سے وابستہ اگر کچھ امیدیں بمشکل تمام سانس لے رہی تھیں تووہ بھی دم توڑ گیئں۔پاکستان کے حکومتی کلچر نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو،کسی کی بھی ہو، اسے عوام کے مسائل اور دکھ درد سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔اور ”’مرے کو مارے شاہ مدار“‘کی مثال یوں بن جاتی ہے کہ عوام، خاص طور پر درمیانہ درجے کے ملازمین اگر حکومت کی کسی ناانصافی پر انصاف مہیاکرنے کے لیئے بنائے گئے مقدس اداروں کے دروازوں پر دستک دیں تو ”’سر پھوڑتی پھرتی ہے ناداں، فریاد جو گھر گھر جاتی ہے“‘کے مصداق منصفوں کے فیصلوں سے اپنی روح تک زخمی کر بیٹھتے ہیں۔
وہ 1996 کا دور تھا، میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان کے منصب جلیلہ پر فائز تھے، کہ رائیٹ سائزنگ کے فارمولے کے تحت سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جانے لگا۔ یادش بخیر، کہ اس سے پہلے محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوران ڈاؤن سائزنگ کے نام پر ملازمین کو بے روزگار کرنے کے لئے پی پی پی کی حکومت پر عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے بہت دباؤ تھا،محترمہ وزیر اعظم نے بہت دباؤ برداشت کیا مگر کسی ایک سرکاری ملازم کو بھی بے روز گار نہیں کیا تھا۔ ان کے بعد میاں صاحب کی حکومت آئی تو اس ڈاؤن سائزنگ کے پروگرام کو، رائٹ سائزنگ کا چولا پہنا کر اس پر عالمی مالیاتی اداروں کے حکم پر ان کی منشا کے مطابق عمل شروع کر دیا گیا تھا، اور ملک بھر سے بڑی بھاری تعداد میں سرکاری ملازمین کو جبری نکال باہر کیا گیا۔صرف یونائیٹڈ بنک سے بیک جنبش قلم 5500سے زائد ملازمین نوکریوں سے نکال دیئے گئے تھے،الزام یہی تھا کہ ان ملازمین کی تقرریاں اور ترقیاں پی پی پی کے دور حکومت میں ہوئیں تھیں، یہ الزام بالکل بے بنیاد، غلط اور پی پی پی دشمنی پر مبنی ایسا سیاسی انتقام تھا،جو بے ضرر سرکاری ملازمین سے لیا گیا تھا۔یونائیٹد بنک سے جبری نکالے گئے ملازمین کی بڑی اکثریت پیشہ ورانہ اہلیت کے حامل ایسے افسران پر مشتمل تھی جنہیں بنک کا اثاثہ کہا جا تا تھا۔اب بھی جن افراد کو زبردستی بے روزگار کیا گیا ہے یا مستقبل میں جائے گا ان میں اہل اور اپے کام سے محبت کرنے والے یقینا شامل ہوں گے۔جبکہ موجودہ تبدیلی سرکار تو نجانے کہاں کہاں سے اپنی مشاورت کے لیئے ایسے افراد ڈھونڈ لائی ہے، جو واپسی کی ٹکٹ ہمہ وقت اپنے پاس رکھتے ہیں۔
بہت تکلیف دہ امر یہ ہے کہ پندرہ، بیس، پچیس سال کی نوکری کے بعد جس شخص کو بھی یوں اچانک فارغ کر دیا جاتا ہے، وہ اپنی زندگی کے انتہائی اہم دور سے گزر رہا ہوتا ہے، اس کے سامنے اپنی زندگی اور ضروریات نہیں ہوتیں بلکہ اپنے بچوں کا مستقبل اسے لاکھوں مشکلوں اور مسائل کے باوجود متحرک رکھتا ہے۔ملازمت پیشہ طبقے میں بہت ہی کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا ماہانہ تنخواہ کے علاوہ گزر بسر کا کوئی اور ذریعہ ہوتا ہو۔یوں اچانک روزگار کے چھن جانے سے ایک بار تو انہیں موت زندگی سے آسان لگنے لگتی ہے۔یہ میں کوئی جذباتی باتیں نہیں کر رہا، یاجذباتی کلمات نہیں لکھ رہا، میں نے ایسے حالات میں نوکری سے جبری نکالے جانے والے اپنے بہت سے ساتھیوں کوزندگی سے جنگ کرتے دیکھا ہے۔
رہی بات انصاف فراہم کرنے والے اداروں کی تو وہاں حکومت کے ایسے ظالمانہ فیصلوں کے خلاف داد رسی کا کوئی امکان ہوتا ہے نہ رواج۔ اور اب تو ملک پر تحریک انصاف نامی جماعت کی عملداری ہے، تو انصاف کے نام پر جو چاہے ”’آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے“‘۔
بدھ, ستمبر 9, 2026
تازہ خبریں:
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا

