اوسلو : پاکستان کے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو اوسلو نوبل سنٹر میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ وہ یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے لئے ایک پاکستانی تنظیم کی دعوت پر اوسلو آئے ہیں۔ جمعہ کی شام کو اوسلو کی تقریب میں اس وقت بد مزگی پیدا ہوئی جب پرویز مشرف کی تقریر کے بعد وہاں موجود بلوچ نوجوانوں نے ایک جمہوری ملک میں پرویز مشرف کی آمد اور بظاہر امن کے حوالے سے گفتگو کے خلاف احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق فوجی آمر، نواب اکبر بگٹی کے علاوہ متعدد بلوچ سیاسی کارکنوں کے قتل میں ملوث ہیں ۔ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پرویز مشرف سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہے اور منتظمین سیکورٹی اہل کاروں کی مدد سے انہیں وہاں سے نکال کر لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔
منگل, اگست 25, 2026
تازہ خبریں:
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار
- ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
- مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم
- انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعدپاکستان میں گستاخی کے مقدمات میں دو تہائی کمی آئی : رائٹرز کی رپورٹ
- حکومت نے خان کی ہسپتال یاترا کرا دی : رات گئے چیک اپ علی الصبح سخت سیکیورٹی میں جیل واپس
- بیان مزید دربارہ سود و زیاں : وجاہت مسعود کا مکمل کالم

