Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, ستمبر 10, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
  • موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
  • مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
  • پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
  • ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
  • سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
  • پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » فہیم عامر کا تجزیہ : تجزیاتی گہرائی کا نظریہ قائد اعظم نے متعارف کرایا ؟
تجزیے

فہیم عامر کا تجزیہ : تجزیاتی گہرائی کا نظریہ قائد اعظم نے متعارف کرایا ؟

ایڈیٹرمارچ 27, 202171 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
qaid e azam 3 june
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

تجزیاتی گہرائی کا نظریہ ( Doctrine of Strategic Depth) کِس نے متعارف کروایا؟ بہت سے دفاعی تجزیہ نگار اپنی اپنی تحریروں اور ٹیلیویژن پروگراموں میں یہ اخذ کرتے ہیں کہ تجزیاتی گہرائی کا نظریہ، جنرل مرزا اسلم بیگ نے پیش کیا۔ مگر جب افواجِ پاکستان کے سپہ سالار کے عہدے کا نام کمانڈر ان چیف سے تبدیل کر کے چیف آف آرمی سٹاف رکھا گیا تو جنرل مرزا اسلم بیگ17 اگست 1988 کو پاکستان کے تیسرے چیف آف آرمی سٹاف بنے۔ درحقیقت جب پاکستان میں تجزیاتی گہرائی کا نظریہ یا Doctrine of Strategic Depth اپنایا گیا تب مرزا اسلم بیگ سولہ یا سترہ سال کے کم عمر نوجوان رہے ہوں گے۔
تو پھر وہ کون تھا جِس نے تجزیاتی گہرائی کا نظریہ پیش کیا اوریہ نظریہ ہے کیا؟؟ آیئے، ٰآج اس پر تحقیق کرتے ہیں۔ عمومی طور پر یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں نوز ائدہ پاکستان کو امریکی کیمپ میں لے جانے کا فیصلہ لیاقت علی خان نے کیا۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ فیصلہ خود قائدِ اعظم محمد علی جناح نے تجزیاتی گہرائی کے نظریئے یا Doctrine of Strategic Depth کے تحت کیا۔ نواب لیاقت علی خان نے تو صرف اس فیصلے کو آگے بڑھایا۔ تجزیاتی گہرائی کے نظریئے کی بنیاد یہ تھی کہ سوویت یونین کو ایک ہوّا بنا کر اور اشتراکیت کو خِطے میں ایک بڑا خطرہ دِکھا کر امریکہ سے مدد حاصِل کی جائے۔ ایم ایس وینکٹ ارامانی کی کِتاب The American Role in Pakistan کے مُطابق قائدِ اعظم نے اپنے کارِ خاص میر لائق علی کو امریکہ بھیجا جہاں اُنہیں امریکہ میں تعینات پاکستان کے پہلے سفیر مرزا ابوالحسن اصفہانی سے مُلاقات کرنا تھی۔ یاد رہے کہ مرزا ابوالحسن اصفہانی مشہور سرمایہ دار خاندان، خاندانِ اصفہان کے چشم و چراغ تھے جو اصفہان سے آ کر بنگال میں بسا۔ خود ایم اے اصفہانی رنگون میں پیدا ہوئے اور Stanley Wolpert کی معروف کِتاب Jinnah of Pakistan کے مطابق نہ صرف محمد علی جناح کے بلکہ راجہ آف محمود آباد، شیخ مجیب الرحمان اور بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیا الرحمان کے بھی قریبی ساتھی تھے۔ پہلے انہوں نے ایم ایم اصفہانی لیمیٹد نام کی ایک کمپنی بنائی پھِر پاکستان کی پہلی ائیر لائین اورینٹ ایئر ویز قائم کی اور حاجی داؤد کے ساتھ مِل کر مسلم کمرشل بینک کی بنیاد بھی رکھی۔ 1960 کی دہائی کے آخر میں جب این ایس ایف نے ایوب خان کے خِلاف اکتوبر تحریک چلائی، جِس میں ایک مہینے بعد ذ والفقار علی بھٹو بھی شامل ہوگئے تو ایک اور نعرہ بہت مشہور ہوا
لوٹ کے لے گئے پاکستان
22 خاندان، 22 خاندان
ان 22 خاندانوں میں داؤد اور اصفہانی خاندان سرِ فہرست ہیں۔
بہرحال، میر لائق علی اور ایم اے اصفہانی نے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداروں سے ملاقات کر کے 2 ارب ڈالر کی امداد کی درخواست کی اور یہی Doctrine of Strategic Depth کی بنیاد ہے کہ پاکستان کو 2 ارب ڈالر امداد دی جائے کیونکہ مسلمان کسی صورت بھی کیمونزم یا اشتراکیت کے ساتھ نہیں چل سکتے حالانکہ مغربی پاکستان کے بھٹو اور مشرقی پاکستان کے شیخ مجیب دونوں بائیں بازو کے نعروں سے ہی مقبول ہوئے اور آج بھی سرمایہ دار سیاسی جماعتیں جب اپوزیشن میں ہوں تو بائیں بازو کا ہی نعرہ بلند کرتی ہیں۔ خود عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہو کربائیں بازو کی زبان ہی استعمال کرتے رہے اور تو اور مولانا طاہر القادری نے بھی اپنی ’’کنٹینر تقریر‘‘ میں کہا کہ ’’میں لینن بھی ہوں، سٹالن بھی ہوں اور ماؤ بھی۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ‘‘۔
خیر، میر لائق علی اور ایم اے اصفہانی کی دلیل یہ تھی کہ پاکستان کی شُمال مغربی سرحد سے سرخ انقلاب کبھی بھی پاکستان میں داخل ہو سکتا ہے اور سرخ انقلاب کے خلاف بھارت کے دفاع کی ذمہ داری بھی پاکستان کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ مگر امریکی حکام نے کسی بھی قسم کی امداد دینے سے انکار کر دیا۔ ایم ایس وینکٹ ارامانی لکھتے ہیں کہ جب کوئی امداد نہ مِلی تو پاکستان کے نمائندے میرلائق علی نے کہا کہ
’’ دو ارب ڈالر نہیں تو مہاجرین کے لیئے رضایئاں ہی دے دیں‘‘۔
یہ ہے وہ تجزیاتی گہرائی کا نظریہ کہ امریکہ کو کیمونزم یا اشتراکیت سے ڈرا کر امداد وصول کی جائے۔ بعد ازاں جو امداد وصول ہوئی، وہ کہاں پر خرچ ہوئی اور اس سے کن کن خاندانوں نے مفاد اُٹھایا ۔۔۔۔۔ یہ کہانی پھِر سہی۔ مگر یہ جاننا ضروری ہے کہ اِس کے بعد قائدِ اعظم کے حکم پر ملک فیروز خان نون نے اسلامی ممالک کے دورے کیئے۔ جی ہاں، وہی ملک فیروز خان نون، جو بعد میں وزیرِ اعظم پاکستان بنے تو سکندر مرزا نے انہیں بیکِ جنبشِ قلم عہدے سے فارغ کر دیا۔ اُنہوں نے انقرہ میں امریکی سفارت خانے جا کر ایک پرانی بوتل میں پرانی شراب پیش کرتے ہوئے دُہرایا کہ مسلمان اشتراکیت کے سخت خلاف ہیں۔ انہوں نے پنڈت جواہر لعل نہرو کا حوالہ دیا کہ اُس نے تو ماسکو میں اپنی بہن کو سفیر لگا رکھا ہے اور سوویت یونین نے بھی دلی میں اپنا سفارت خانہ بنا رکھا ہے اور اس کے برعکس امریکہ کے ’’وفادار پاکستان‘‘ میں کوئی روسی سفارتی عملہ موجود ہے نہ پاکستان نے روس میں اپنا کوئی سفارت خانہ بنا رکھا ہے۔ جب ملک فیروز خان نون بھی کچھ حاصل نہ کر سکے تو وزیرِ خزانہ غلام محمد بھی میدان میں اترے مگر بے نیل و مرام واپس لوٹ آئے۔
با لآخر قائدِ اعظم محمد علی جناح نے امریکی سفیر پال ایچ ایلنگ Paul H. Alling سے بذاتِ خود ملاقات کرکے Doctrine of Strategic Depth سمجھانے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ قلات اور گلگت میں روسی ایجنٹ موجود ہیں۔ اِس دوران بدنامِ زمانہ امریکی صدر ہیری ٹرومین نے پاکستان کی وفاداریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت کے جواہر لعل نہرو کو امریکی دورے کی دعوت دے ڈالی۔ بعد ازاں جب لِنڈن بی جانسن پاکستان آئے تو کراچی میں این ایس ایف کے تمام معروف کارکنان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور وہ بشیر ساربان نامی ایک اونٹ ریہڑی بان کو امریکہ ساتھ لے گئے۔ ٹائمز میگزین سمیت بہت سے سرمایہ داری کے حامی میڈیا نے اس ’’انسان دوست‘‘ صدر کی تعریفوں کے وہ پل باندھے کہ بھوُل ہی گئے کہ سینیٹر جوزف میکارتھی کے کہنے پر اُس کے پیشرو، ہیری ٹرومین نے ایک امریکی شادی شدہ جوڑے جولیئس روزنبرگ اور ایتھل روزنبرگ کا الیکٹرک چئیر پر قتل کر دیا تھا، جِسے میکارتھی ازم کہا گیا اور فیض نے اِس موضوع پر اپنی معروف نظم ’’ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘‘ راولپنڈی جیل میں لکھی۔
تاہم، لیاقت علی خان نے جواہر لعل نہرو کے امریکی دورے کا توڑ یہ کیا کہ تہران میں واقع روسی سفارت خانے سے رابطہ کیا اور جوزف سٹالن سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور جوزف سٹالن نے لیاقت علی خان کو ماسکو آنے کی دعوت دے بھی دی مگر جب امریکہ سے گرین سگنل ملا تو جوزف سٹالن کی دعوت ٹھکرا دی گئی۔ نواب لیاقت علی خان کے سیاسی کردار پر محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب My Brother میں بھی خوُب روشنی ڈالی ہے، جس کے بیشتر حِصوں کو عہد کے سلطانوں نے حذف کردیا تھا مگر وہ حذف شدہ حِصہ قدرت اللہ شہاب نے اپنی خود نوشت ’’شہاب نامہ‘‘ میں شایع کردیا۔ تاہم ہمارا موضوع تجزیاتی گہرائی کے نظریئے کے پاکستان میں بانی اور معانی ہیں۔
مُحمد رضا کاظمی اپنی کتاب Liaqat Ali Khan; His Life and Works میں دعویٰ کرتے ہیں کہ روس کے سرکاری دورے کی دعوت محض ایک سراب تھا ورنہ لیاقت علی خان، قائدِ اعظم کی Doctrine of Strategic Depth پر ہی کام کر رہے تھے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں جمہوریت، جو پیدا ہی Premature ہوئی تھی، حالتِ نزع میں پہنچ گئی۔ پاکستان کا اپنا تو کوئی آئین تھا نہیں، لہٰذہ لیاقت علی خان نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ، 1935 میں ترمیم کر دی اور اب اس ترمیم کے تحت کسی بھی صوبے میں وزیرِ اعلیٰ نامزد ہونے کے لیئے وزیرِ اعظم کی اآ شیرباد بھی درکار تھی۔ اسی ترمیم کے تحت لیاقت علی خان نے 14 جنوری 1949 میں پروڈا یعنی Public Offices Disqualification Act بنایا اور نہ صرف پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ نواب ممدوٹ کے خلاف کارروائی کی، پنجاب حکومت کو برطرف کر دیا، وزیرِ اعلیٰ سندھ پیر اِلہٰی بخش کو 6 سال کے لیئے نا اہل قرار دیا بلکہ حسین شہید سہروردی اور ان کی جماعت عوامی لیگ کو غدار، جھوٹے اور منافق کہنے کے ساتھ ساتھ 11 ستمبر 1950 میں لیاقت علی خان نے قائدِ اعظم کی برسی کے موقع پر تقریر میں یہ کہا کہ ’’ یہ وہ غیر ملکی کتے ہیں جنہیں دشمن نے ہم پر بھونکنے کے لیئے چھوڑ رکھا ہے‘‘۔
لیاقت علی خان نے ایسا کیوں کیا اور اس سارے عمل میں انہیں ’’غیبی مدد‘‘ کیوں حاصل رہی؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ دراصل یہ تجزیاتی گہرائی کے نظریئے ہی کے اثرات تھے جو پاکستان پر پڑے اور با لآخر بغداد پیکٹ 1955، سیٹو اور سینٹو (CETO and CENTO) معاہدوں پر دستخط کر دیئے گئے جس کا بنیادی مقصد خطے میں اشتراکیت کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنا تھا۔ مگر مملکتِ پاکستان اور تجزیاتی گہرائی کے نظریئے کے بانی، قائدِ اعظم محمد علی جناح کی اس پالیسی کہ یہ نتیجہ نکلا کہ ریاست مکمل طور پر آف شور سرمائے، ملٹی نیشنل کارپوریشنوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے شکنجے میں بری طرح پھنس گئی اور آج تک پھنسی ہوئی ہے۔ آج بھی قومی ادارے، قومی اثاثے اور اہلِ وطن کی تمام محنت کو یہ آف شور سرمایہ، یہ ملٹی نیشنل کارپوریشنیں اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے بے دردی سے لوٹ رہے ہیں۔ رہی بات حکومت یا حکمرانوں کی تو عسکری قیادت سمیت، کوئی وزیرِ اعظم، کوئی چیف جسٹس گویا کِسی بھی ادارے کا کوئی سربراہ اب اِن کی اجازت کے بغیر زبان بھی نہیں ہِلا سکتا کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بھی یہی تجزیاتی گہرائی یا Strategic Depth ہے۔
جب یہ سب کُچھ ہو رہا تھا تو عوامی سطح پر کیمونسٹ پارٹی نے جنرل اکبر خان کے ساتھ مل کر ایک فوجی انقلاب برپا کرنے کی ناکام کوشش کی۔ (یاد رہے کہ یہ فوجی انقلاب کِسی بھی حوالے سے عوامی جمہوری انقلاب نہ تھا) اسے راولپنڈی سازش کیس کہا جاتا ہے۔ اس میں فوجی افسران اور پاکستان کےاس وقت کے اشتراکی رہنما شامل تھے مگر ستم ظریفی یہ دیکھیئے کہ تمام فوجی افسران کو تو معمولی سزائیں دے کر چھوڑ دیا گیا، جبکہ میجر جنرل حبیب اللہ خٹک، راولپنڈی سازش کیس میں پہلے تو سرکاری گواہ بنے اور بعد میں ایوب خان کے سمدھی ہونے کے ناطے ایک بہت بڑے صنعتکار بن گئے مگر Doctrine of Strategic Depth کے تحت کیمونسٹ پارٹی کے رہنماؤں کو تا دیرسلاخوں کے پیچھے رکھا گیا۔ محمد علی بوگرہ کے دور میں کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان، ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن، مُختلف ٹریڈ یونینز، انجمن ترقی پسند مصنفین اور بے شمار بائیں بازو کے جریدوں اور اخباروں پر پابندی لگا دی گئی۔
مگر سائینس کا اُصول ہے کہ ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے۔ لہٰذہ 1955 میں ایوب خان کی بنائی ہوئی نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن پر کالعدم ڈی ایس ایف کے طلبہ غالب آئے اور آج تک این ایس ایف اس Doctrine of Strategic Depth کے مُحافظ طبقات کے خلاف مزاحمت کا عَلم بلند کیئے کھڑی ہے۔ Doctrine of Strategic Depth کے حامی طبقات بار بار این ایس ایف پاکستان کی صفوں میں اپنے پیادے گھُساتے رہے اور این ایس ایف کو کئی بار تقسیم کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی امیر حیدر کاظمی پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو کر وزیرِ صحت بن جاتے تو کبھی معراج محمد خان بھٹو کے سیاسی وارث۔ یہ بات اب تاریخ کے صفحات میں درج ہے کہ امیر حیدر کاظمی پیپلز پارٹی کے وہ وفاقی وزیرِ صحت تھے جن پر جعلی ادویات کا سکینڈل بنا اور وہ پاکستان چھوڑ کر برطانیہ فرار ہو گئے اور معراج محمد خان کا سیاسی سفر پیپلز پارٹی سے ہوتا ہوا قومی محاذِ آز ادی تک اور با لآخر پاکستان تحریکِ انصاف کے جنرل سیکرٹری پر آ کر ختم ہو گیا۔ راجہ انور شہباز شریف کے مشیرِ تعلیم بنے تو پرویز رشید نواز شریف کے وزیرِ اطلاعات۔
مگر ڈاکٹر رشید حسن خان نے بے حد نامساعد حالات میں بھی، کبھی پسِ دیوارِ زنداں رہ کر اور کبھی زیرِ زمین رہ کر این ایس ایف کو زندہ رکھا اور پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے نام سے 1979 میں ایک پری پارٹی فارمیشن بنائی جو ایک انقلابی پارٹی کے قیام سے پہلے کی ایسی فارمیشن تھی جو مزدوروں، کسانوں، نچلے اور متوسط طبقے کے روشن خیال طبقوں اور طلبہ میں کام کرتی رہی۔ اس دوران NSF اور PDF نے دو مارشل لاء دیکھے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی میوزیکل چئیرز کا کھیل دیکھا۔ جی ہاں، وہی میوزیکل چئیرز جو ملک میں آئین کی شق 58 ٹو بی کے گرد کھیلا جاتا رہا۔ یہ سول اور باوردی مقتدر طبقات جب بھی حکومت میں آئے، ہمیشہ واشنگٹن میں Doctrine of Strategic Depth کی حفاظت کا عہد باندھ کر آئے۔
30 اپریل 2016 کو ڈاکٹر رشید حسن خان دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے مگر این ایس ایف کے سابق کارکنان نے با لآخر اِس پری پارٹی فارمیشن (PDF) سے ایک قدم آگے بڑھایا اورانقلابی سیاست کے اگلے پائدان پر قدم رکھ دیا اور 24 جنوری 2020 کو پاکستان انقلابی پارٹی کا اعلان کر دیا۔ اب معروضی جدلیات میں ایک طرف پاکستان انقلابی پارٹی ہے جو طاقت کو ایوانوں سے نکال کر یونین کونسل کی سطح پر لے آنے کی دعویدار ہے اور دوسری جانب انہی 22 خاندانوں پر مشتمل وہ مقتدر طبقہ ہے جو Doctrine of Strategic Depth کے نام پر ملک میں آف شور سرمائے، ملٹی نیشنل کارپوریشنوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مفادات کے تحفظ کے لیئے گلیوں، چوراہوں اور چینلوں پر آپس میں دست و گریباں نظر آتا ہے۔ ملکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کی رائے میں دونوں متحارب طبقات یعنی Doctrine of Strategic Depth کے حامی طبقات اور عوامی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے انقلابی طبقات کا فیصلہ کن ٹکراؤ نزدیک آ گیا ہے کہ عوام اب تمام سرمایہ دار سیاسی جماعتوں کو آزما چکے ہیں اور اب ان کا افلاس ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

قائد اعظم محمد علی جناح مرزا اسلم بیگ
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleزعیم ارشد کا اختصاریہ: محبوب اور سیاست دان ، چال سے جال تک
Next Article فاروق عادل کا تجزیہ : ذوالفقار علی بھٹو کے آخری دور اور موجودہ صورت حال میں‌کیا مماثلت ہے ؟
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

رتی اور جناح کی داستانِ محبت : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

فروری 27, 2026

11 ستمبر ، قائد اعظم کی وصیت میں تحریف اور کچھ غلط بیانیاں : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد

ستمبر 12, 2025

یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم : ضرورت ہے ایک نظریے کی

اپریل 23, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا ستمبر 10, 2026
  • موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم ستمبر 10, 2026
  • مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم ستمبر 9, 2026
  • پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ ستمبر 9, 2026
  • منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم ستمبر 8, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.