ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی 66سالگرہ ملک بھر میں عقیدت و احترام دے منائی گئی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے وسیب کے ہر شہر اور ہر قصبے میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو جسے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو پنکی کے نام سے پکارتے تھے ، سرائیکی وسیب سے بہت انس رکھتی تھیں یہ ٹھیک ہے کہ ان کا تعلق سندھ سے تھا مگر انہوں نے ہمیشہ وسیب سے محبت کی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جس طرح سندھ اور سرائیکی وسیب کی تاریخ بہت قدیم ہے اسی طرح سندھ وسیب کی تہذیبی ، ثقافتی جغرافیائی سانجھ بھی بہت پرانی ہے ۔ سندھ وسیب کے لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ان کی زبان ، ثقافت ایک رہی اور یہ بھی ایک حقیقت ہے سندھ وسیب میں بسنے والی قومیں اور ذاتیں نا صرف ایک ہیں بلکہ ان کے درمیان زمانہ قدیم سے رشتہ داریاں بھی ہیں ۔ دونوں خطوں کے لوگ ایک ہی طرح کی تہذیبی ، ثقافتی اور جغرافیائی مسائل کا شکار ہیں ، دونوں خطے زمانہ قدیم سے حملہ آوری کی زد میں رہے اب بھی مسائل کا شکارہیں ۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ دونوں کے درمیان دکھ کی سانجھ قدرتی اور فطرتی طور پر موجود ہے ۔اسی سانجھ نے دونوں کو اپنائیت کے دھاگے میں میں پرو رکھا ہے ۔ اسی بات کا سب سے زیادہ احساس دیدہ ور سیاست دان ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کا تھا ۔ انہوں نے جس طرح اپنی ماں دھرتی سندھ سے محبت کی اُسی طرح وسیب سے بھی محبت کی۔ لیکن آج مہاجر صوبے کے خوف سے سندھ کی قیادت نے وسیب سے آنکھیں پھیر لی ہیں لیکن میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سندھ اور وسیب کو جو بھی خطرات ہوں ، ان کا مقابلہ باہمی اتفاق سے کیا جا سکتا ہے۔ بہاولپور کے جلسہ عام میں محترمہ نے کہا کہ مجھے اورمیرے بزرگوں کو بہاولپور سے پیار ہے ، یہ حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی اور جلال الدین سرخ بخاری کی دھرتی ہے ، میرے دادا میر مرتضیٰ بھٹو کو انگریز دور میں یہاں پناہ ملی ،ہم بر سر اقتدار آ کر اس شہر میں زراعت کی ترقی ، بے روزگاری کے خاتمے اور اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لئے اقدامات کریں گے ۔ افسوس کہ محترمہ کے فرمان کے بر عکس چار سالوں میں پیپلزپارٹی حکومت نے نہ تو بہاولپور میں کوئی تعلیمی ادارہ قائم کیا اور نہ کوئی صنعت قائم ہوئی نہ زراعت کو ترقی ملی اور چولستان میں زمینوں کی بندر بانٹ بندہونے کی بجائے بڑھ گئی ، آج وسیب میں گندم کے کھلے عام گودام بھرے ہیں لیکن لوگ بھوک سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں ، کپاس ان کی ہے مگر کارخانے کہیں اور ہیں اور گارمنٹس کا ایکسپورٹر کوئی اور ہے ۔ وسیب سمیت تمام پسماندہ علاقوں کو پسماندگی ختم کرنے کیلئے ترقی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ضرورت تھی جو نہیں کی گئی ۔ بہاولپور کا ذکر آیا ہے تو یہ بھی بتاتا چلوں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی سے ایک دن قبل سرائیکی لوک سانجھ کے رہنما قمر ملک کی رہائش گاہ پر وسیب کی صورتحال پر غور کرنے کیلئے سرائیکی جماعتوں کا اکٹھ ہوا، سرائیکی جماعتوں کے علاوہ بہاولپور صوبے کے اکابرین بھی موجود تھے ۔ اجلاس میں سرائیکی وسیب کی تاریخی ، جغرافیائی اور ثقافتی وحدت کو تقسیم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے ایک صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا گیا جو خوش آئند بات ہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اجلاس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویر والا فریم کرسی صدارت پر سجایا گیا۔ میں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ پی پی نہیں سرائیکی جماعتوں کا اجلاس ہے ، میں نے کہا کہ مجھے محترمہ کا بے حد احترام ہے ، ان کی شہادت کو بھی سلام پیش کرتا ہوں مگر سرائیکی تحریک نہ تو کسی سیاسی جماعت کا دم چھلا ہے اور نہ پی پی کی بی ٹیم ہے۔ ہماری اپنی جدوجہد اور اپنی پہچان ہے ، جس طرح پی پی اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویر سجتی ہے ، اسی طرح سرائیکی اجلاس میں سرائیکی ہیرو نواب مظفر خان یا احمد خان کھرل کی تصویر ہونی چاہئے ۔ اس پر میرے خلاف طوفان اٹھا دیا گیا ، لیکن میں اپنی بات پر قائم رہا اور اب بھی قائم ہوں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پی پی کی موجودہ قیادت نے قوم اور وسیب کے لوگوں کو صوبہ شناخت اور بنک بنانے کے خوش کن خواب دکھائے اور دن رات سرائیکی صوبہ سرائیکی صوبہ کا ماحول اس طرح بنایا کہ لوگوںکی خوش فہمی آسمان پر پہنچ گئی ، مگر اٹھارہویں ترمیم کے موقع پر سرائیکی قوم کی بات نہ سنی گئی اور صوبے کا راستہ روکنے کیلئے ضیا الحق کی ترمیم کو برقرار رکھا گیا۔ سرائیکی صوبہ تو کیا بنک بھی نہ بنایا اور سرائیکی قوم کو شناخت دینے کے بجائے صوبے کا نام ’’بی جے پی‘‘ تجویز کیا اور بہت سے علاقے صوبہ بننے سے پہلے کاٹ دئیے تو اس پر وسیب کے کروڑوں انسانوں کے خواب چکنا چور ہوئے اور حوصلہ اور پرسہ دینے کی بجائے قوم کو مایوسی کے اندھے کنویں میں دھکا دیدیا۔ یہ اتنا بڑ صدمہ ہے جس سے سرائیکی قوم آج تک واپس نہیں آ سکی، آج اگر بی بی زندہ ہوتی تو پی پی کی موجودہ قیادت سے پوچھتی کہ کیا ایسے سیاست اور قوم کی رہنمائی کی جاتی ہے ؟ یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ بھٹو خاندان کو وسیب اور وسیب کو بھٹو خاندان سے محبت ہے، محترمہ کی شہادت پر سب سے زیادہ شاعری سرائیکی میں کی گئی۔ محترمہ نے ایک طویل نظم لکھی۔اس طویل نظم میں سے چار لائنوں کا مفہوم یہ ہے کہ اس جیون کا کوئی فائدہ نہیں جو ملتان ، کیچ مکران ، ملک مہران اور شہر مردان سے دور ہو ۔ 27 دسمبر لیاقت باغ راولپنڈی میں اپنی شہادت سے کچھ دیر پہلے محترمہ بینظیر نے کہا کہ کہ پنڈی نے مجھے بہت دکھ دیئے ہیں اور کچھ خوشیاں بھی ، انہوں نے کہا کہ پی پی کی تاریخ جدوجہد سے بھری پڑی ہے ، میرے والد جابر قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہوئے اور تختہ دار پرر چڑھا دیئے گئے ۔ میرے دو بھائی قتل ہوئے۔ میری ماں کا لاٹھیوں سے سر پھاڑ دیا گیا۔ مجھے قدم قدم پر اذیتیں دی گئیں اور ٹارچر کیا گیا ۔ میں جیلوں کے اندر رہ کر بھی جمہوریت کیلئے لڑتی رہی۔ آمروں نے ہمیشہ جمہوریت کا راستہ روکا۔ میرے کراچی کے جلسے میں دھماکے کرائے گئے ، ہم نے اپنے سینکڑوں کارکنوں کے لاشے اٹھائے۔سیاسی یتیم کہتے تھے کہ بے نظیر بھٹو اب کبھی واپس نہیں آئیں گی لیکن میں تمام خطرات کو ایک طرف رکھ کے واپس آئی ہوں کہ میں موت سے نہیں ڈرتی اور اپنے وطن کے لوگوں کے ساتھ جینا مرنا چاہتی ہوں ۔محترمہ کو پاکستان کے دوسرے خطوں کی طرح وسیب سے بہت محبت تھی ، انہوں نے شہادت سے قبل وسیب میں بہت جلسے کئے اور ہر جگہ لفظ سرائیکی وسیب پکارا لیکن آج بلاول بھٹو نے برسی پر جو لفظ استعمال کیا وہ محترمہ کی تعلیم سے روگردانی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

