مہینے تو اور بھی بہت ہیں پر جو کمائی رمضان میں ہوتی ہے پھر پورا سال نہیں ہوتی ۔۔ یکم رمضان کا آغاز ہی بینکوں سے زکوٰ ۃ کی کٹوتی سے ہوتا ہے اور اس کے بعد ” مانگنے ” کا وہ طوفان اٹھتا ہے کہ نہ کوئی مسجد اس سے محفوظ ، نہ کوئی مدرسہ، نہ کوئی ہسپتال اس سے محفوظ، نہ کوئی این جی او اس سے محفوظ … بس ہر طرف مانگنے کا شور ۔۔ لگتا ہے پورا ملک ہی ” منگتا ” بن گیا ہے ….اس کے بعد نمبر آتا ہے اشیاۓ خورد و نوش کا جو کہ رمضان آتے ہی دو گنا بلکہ تین گنا قیمت میں دستیاب ہوتی ہیں ۔۔ لگتا ہے مارکیٹ کا ہر دوکان دار یکم رمضان سے ” لٹیرا ” بن گیا ہے ۔۔ اب باری ہے عید کی تیاری کی … جو کپڑا ، جوتا عام دنوں میں نارمل ریٹس پر مارکیٹ میں دستیاب ہوتا ہے رمضان شروع ہوتے ہی ان کی قیمتیں ڈبل ہوجاتی ہیں …( آخر یہ لوٹ مار رمضان میں ہی کیوں ؟کیا ہم ایک اسلامی ملک میں نادانستہ طور پر توہین رمضان کے مرتکب تو نہیں ہورہے اور اس کے باوجود کہ یکم رمضان سے پہلے ہی شور مچانا شروع کردیتے ہیں کہ ” سلامتی اور رحمتوں ” کا مہینہ شروع ہونے والا ہے جس میں شیطان جکڑ دیا جاتا ہے ۔۔ اگر شیطان جکڑ دیا جاتا ہے تو یہ شیطانی عمل کیسے سرزد ہوتے ہیں ؟ذرا سوچیے ؟
منگل, ستمبر 8, 2026
تازہ خبریں:
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

