گول دائرے میں جو بھی سیاست کو لایا وہی اصل فنکار ہے۔ دائرے کی بڑائی یا چھوٹائی کا فیصلہ کرنے والی پُرکار اپنی مرضی سے دائرے کا حجم بڑھا رہی ہے البتہ سیاست دائرے سے باہر نہیں نکلنے دے گی۔ دائرے کے اندر ہی نکتے طے کر دیے گئے ہیں، حدود بنا دی گئی ہیں۔۔ بس سبھی انہی نکتوں اور حدوں میں پُرکار کے نیچے اپنا کردار نبھائیں گے۔
نواز شریف باہر ہیں لیکن محدود مدت کے لیے۔ اس دوران ان کی اپیل پر فیصلہ ان کے حق میں ہوا تو بہتر نہ ہوا تو واپس اندر۔ یہ فیصلہ نواز شریف کو کرنا ہے کہ وہ دائرے سے نکلنے کی کوشش نہ کریں اور یہی تا حال ایک مسئلہ بھی ہے۔
نواز شریف کی جیل اور سزا سے ایک سبق تو مل ہی گیا کہ کسی رہنما کو اندر رکھنا مناسب نہیں بس اُس پر تلوار لٹکتی رہے اور میڈیا اربوں کھربوں گنتا رہے۔ عدالتوں سے بہتر روزانہ لگنے والی آٹھ سے بارہ عدالتیں ہیں جو سزا بھی دیتی ہیں اور نہیں بھی دیتیں سو انھی سے کام چلایا جائے۔ بہرحال پُرکار کے اندر کے سیاسی پیچوں کو دھیرے دھیرے تیل دیا جائے گا۔
دائرے کے اندر ہی بند سیاسی کرداروں کو اب باہر کیسے آنا ہے؟ دیکھا جائے تو محض ایک ہی کردار آزاد ہے اور وہ ہے بلاول۔ مریم نہ چاہتے ہوئے بھی والد کی رہائی سے لگی بیٹھی ہیں۔ انھیں کب اور کہاں باہر آنا ہے یہ فیصلہ نوازشریف کے خلاف اپیل کے فیصلے کے بعد ہو گا۔ زرداری اپنے مقدمات نمٹاتے رہیں گے۔ گو بلاول کے ہاتھ کمان تو آ چکی ہے لیکن تیر کب چلنا ہے یہ بھی ابھی طے نہیں ہوا۔
پُرکار کے دو کردار بلاول اور مریم بالواسطہ آپسی رابطوں اور نواز شریف کے بلاواسطہ رابطے میں تھے، ہیں اور رہیں گے۔ البتہ نواز شریف کو ملنے والا ریلیف پیپلزپارٹی کے نزدیک ’خاموش مفاہمت‘ ہے۔ کیا بلاول جیل والی گفت گو اور نواز شریف کی شاباش کو بھلا دیں گے یا کوٹ لکھپت کی ’خاموش مفاہمت‘ پر قائم رہیں گے۔ پیپلزپارٹی اعتبار کرنے یا نہ کرنے کے مرحلے میں ہے۔
بلاول دائرے کی بیرونی حد کے ہلکا سا قریب ہیں۔ حالیہ ٹرین مارچ کے دوران سندھ کے عوام کا والہانہ استقبال دیکھنے والوں کو متاثر کر گیا۔ بااختیار بھی سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ تھوڑی دیر کو سہی مگر دائرہ سندھ کی حد تک ذرا وسیع رہنے دیا جائے۔ البتہ لاڑکانہ کے بعد جنوبی پنجاب تک ٹرین مارچ کا مرحلہ طے کرے گا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کتنا آگے جا سکے گی اور کیا بلاول وسطی پنجاب تک مارچ لے آئیں گے اور کیا ’ن لیگ نظریاتی‘ یہاں ان کا ساتھ دے گی؟
دائرے کا ایک اور متحرک کردار رائیونڈ اور پنڈی کے درمیان محدود ہو گیا ہے۔ رائیونڈ سے بالا ہی بالا بعض معاملات طے ہوئے مگر اُن پر مہر ثبت نہ ہو سکی۔ اُن کا کردار سینیٹ انتخابات کے بعد نظر آرہا ہے جب سیٹ اپ کو ان ہاؤس ٹیون کرنے کا امکان ہو گا۔
پُرکار کے سیاسی پیچ پرزے البتہ کام نہیں کر رہے، توقع یہی تھی کہ ان کی کارکردگی اصل بااختیاروں کو مضبوط کرے گی لیکن اس محاذ پر اصل اہداف تاحال حاصل نہیں ہوئے۔ معیشت پر اندرونی اور بیرونی دباؤ نظام کا بیک اپ تیار کرنے کا مشورہ دے رہا ہے اور دائرے کے اندر ہی پُرکار کے پرزوں کے اختیار کو بھی محدود کر رہا ہے۔
مئی جون کا بظاہر پہلا اور حقیقتاً تیسرا بجٹ کیا رنگ لائے گا۔ عوامی حمایت میں کمی اور ایف اے ٹی ایف جیسے بیرونی دباؤ بین الاقوامی دائرے کو بھی تنگ کر سکتے ہیں جس سے اندرونی دائرے کی حدود ٹوٹ سکتی ہے، کردار آزاد ہو سکتے ہیں، اور فنکار۔۔۔ دیکھیے اور انتظار کیجیے!
(بشکریہ:بی بی سی)
منگل, نومبر 3, 2026
تازہ خبریں:
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور
- پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟

