بھارتی جارحیّت کے جواب میں پاک فضائیہ نے کاروائی کرتے ہوئے دو بھارتی طیارے مار گرائے ۔ بھارتی پائلٹ گرفتار ہوا ۔ ان میں پائلٹ ابھی نندن بھارتی فضائیہ کے ائر مارشل سمہا کتی ورتھامن کابیٹاہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ گرفتار پائلٹ نے گرفتاری کے بعد کہا کہ میرے ساتھ پاک فوج کا رویّہ انتہائی متاثر کن ہے ۔ میں شکر گزار ہوں کہ پاک فوج کے جوانوں نے مجھے مشتعل ہجوم سے بچا کر اپنی حفاظت میں لیااور مجھے بہترین طبّی سہولتیں فراہم کیں۔بھارتی پائلٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت جا کر اپنے بیان سے نہیں مکروں گا۔دشمنی اور جنگ کے باوجود پاک فوج نے گرفتار پائلٹ سے حسن سلوک کا مظاہر ہ کرکے مسلم اسلاف کی یاد تازہ کی ہے ۔ اس سے بھارت کو یہ جاننا چاہیے کہ پاکستان کا جو امیج بھارتی میڈیا دکھا رہا ہے وہ جھوٹ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لوگ انسان ہیںاور انسانیّت سے پیار کرتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے اجلاس اور قوم سے نشری خطاب میں پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا اور بھارت کو مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ جنگ چھڑی تو میرے کنٹرول میں نہ رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ جوابی حملے کا مقصد بھارت کو یہ باور کرانا تھا کہ وہ کارروائی کرسکتے ہیں توہم بھی کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے بجا طور پر کہا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہیں۔بھارت کو ہوش سے کا م لینا چاہیے۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں دونوں ملکوں کا جانی و مالی نقصان ہوا ۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ دونوں جنگوں کے دوران پاک فوج نے جرات اور دلیری کا مظاہرہ کیا ۔ تاہم 1971ء کے موقعہ پر مغربی پاکستان کے حکمرانوں کی مشرقی پاکستان کی عوام سے زیادتیوں اور بھارتی ریشہ دوانیوں کے باعث مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا۔آج بھارت اسی طرح کا کھیل افغان بارڈر کی معرفت بلوچستان اور دیگر علاقوں میں کھیلنا چاہتا ہے ۔ لیکن آج 1971ء والے حالات نہیں ہیں۔ آج پاکستان کا ایک ایک فرد پاک فوج کا سپاہی ہے اور مسلمانوں کا تو فلسفہ ہی یہ ہے کہ اسلام اور مادر وطن کیلئے موت دراصل مسلم کی حیات ہے ۔ آج صرف پاک فوج ہی نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم چاک و چوبند ہے اور بھارتی جارحیّت کے خلاف متحد ہوچکی ہے اور پاکستان کے ہر شہر ،قصبے اور ہر گائوں سے بھارتی وزیر اعظم مودی کے خلاف جلوس برآمد ہورہے ہیں۔جبکہ خود بھارت میں بھی مودی کے خلاف نفرت موجود ہے ۔سوشل میڈیا پر بھارتی خواتین کا مودی کے خلاف جلوس جس میں وہ نعرہ لگارہی ہیں کہ "نیم کا پتہ کڑوا ہے مودی سالا بھڑوا ہے ” یہ حقیقت ہے کہ امن اور حالت جنگ میں کسی بھی قوم کے شاعروں ، ادیبوں ، دانشوروں خصوصاً گلوکاروں اور فنکاروں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔جونہی بھارتی جارحیّت شروع ہوئی تو ہمارے شعراء اردو کے ساتھ پاکستانی زبانوں پنجابی، سندھی ،بلوچی،سرائیکی ،پشتو، پوٹھوہاری، براہوی ، کشمیری ،ہندکوو دیگر زبانوں میں شاعری کررہے ہیں۔اگر ہم پس منظر میں جائیں تو 1965ء کی جنگ میں صوفی غلام مصطفے تبسم نے پنجابی گیت "ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے تو لبھدی پھریں بازار کڑے”لکھا اور ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنی خوبصورت آواز میں گایاتو جنگ کی کایا پلٹ گئی اور بھارت کو شکست ہوئی ۔ملکہ ترنم نور جہاں کا ذکر آیا ہے تو یہ بھی بتاتا چلوں کہ ملکہ ترنم نور جہاں کا تعلق قصور سے تھا ۔ اس نے پوری زندگی لاہور کو دے دی ۔ مگر افسوس کہ وہ کراچی کے ڈیفنس قبرستان میں دفن ہے ۔ جیسا کہ میں نے کل کے کالم میں ذکر کیا تھا کہ سرائیکی وسیب کے لوگوں کو حکمرانوں سے شکایات ہیں۔ لیکن یہ وقت شکایات کا نہیں بلکہ اتحا د کا ہے ۔ مجھے یاد آیا کہ 1992ء میں ہم عالمی سرائیکی کانفرنس کے سلسلے میں نئی دہلی گئے۔کانفرنس میں شریک عمر رسیدہ مرداور ایک خاتون ہمیں بڑی چاہت سے ملے اور وزٹنگ کارڈ دیا اور کہا کہ ہماری شاپ پر آپ ضرور آئیں اور چائے پییں ۔ ہم دوسرے دن وہاں گئے شاپ پر وہ دونوں موجود تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم ملتان سے ہیں۔ تقسیم کے وقت ہم بھارت آئے ۔ اس وقت ہماری عمر آٹھ دس سال تھی ۔انہوں نے بتایا کہ ریڈیو ملتان شروع ہوا تو ہم سرائیکی پروگرام نہ صرف یہ کہ بڑی چاہت سے سنتے تھے بلکہ ہر پروگرام کو ریکارڈ کرتے اور اپنے ملتانی بھائیوں کو آڈیو کیسٹیں تحفے میں دیتے ۔ہم شام کے پروگرام جمہور دی آوازکے کمپیئر مہر صاحب اور ملک صاحب کے دیوانے ہوچکے تھے ۔یہ واقعہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو نسل درنسل ملتان میں رہے لیکن جب انہوں نے ترک سکونت اختیار کی تو اپنا ناطہ اسی سرزمین سے جوڑا جہاں وہ آباد ہوئے۔ آج اگر الطاف حسین یااس طرح کے چند دیگرمنفی سوچ رکھنے و الے سیاستدانوں کے بیان آتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے ۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی کا کردار ادا نہ کرے اور امن کیلئے آگے آئے ۔وزیر اعظم پاکستان نے بھارت کومذاکرات کی دعوت دی ہے ۔ مودی سرکار کو جنگی جنون کے خول سے باہر آکر امن کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ بھارت کی سوا ارب آبادی غربت،بے روزگاری اور دیگر مسائل کا شکارہے ۔ لیکن مودی کا نفسیاتی مسئلہ اورانتخابی فوبیا شائد اسے امن کے پیغام پر آمادہ نہ کرے اس کیلئے ضروری ہے کہ پوری پاکستانی قوم اپنے اندرونی اختلافات بھلا کر دشمن کے خلاف افواج پاکستان سے مل کر سیسہ پلائی دیوار بن جائے ۔ہمارے علمائے کرام نہ صرف اپنی تقریروں میں قوم کوجہاد کی ترغیب دیں بلکہ جس طرح جہاد افغانستان کے موقعہ پر مجاہد مدارس سے بھیجے اس سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اب طلباء کو پاک فوج میں شمولیت کیلئے بھیجیں کہ یہ جہاد اکبر ہے ۔اسی طرح پاکستان کے جاگیرداروں ،سرمایہ داروںاور اہل ثروت کو مشکل وقت میں دامے ، درمے ،قدمے ،سخنے آگے آنا چاہیے کہ جنگ تبو ک کے موقعہ پر سرکار کائنات ﷺ نے صحابہ کرام کو جنگ کیلئے مال اسباب خرچ کرنے کا حکم فرمایا تھا ۔بھارت نے جارحیّت کا ارتکاب کیا ہے تو اسے منہ تو ڑ جواب ملنا چاہیے کہ آئندہ وہ اس طرح کی حرکت نہ کر سکے۔ہمارے نبی آخرزمانﷺ نے چودہ سو سال پہلے بشارت دی تھی کہ غزوہ ہند میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی ۔ انشاء اللہ وہ بشارت پوری ہوتی نظر آ رہی ہے ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)
Previous Articleعالمی برادری کی جانب کھولی گئی کھڑکی۔۔نصرت جاوید
Next Article لاش کو انصاف کی تلاش۔۔خاور نعیم ہاشمی

