میرے گھر میں بھی کچھ دہشت گرد ہیں جن کا تعلق داعش ، لشکر جھنگوی ، تحریک طالبان یا کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے ہوسکتا ہے۔عین ممکن ہے کہ گیارہ سالہ دہشت گرد عون عباس نے اپنے کسی پہلے جنم میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو زیارت میں زہر دیا ہو ، پہلے وزیر اعظم نواب لیاقت علی خان پر گولی چلائی ہو یا وہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میری سات سالہ بیٹی حجاب زہرا کسی خود کش جیکٹ بنانے والی کمپنی کی حصہ دار ہو یا وہ پرویز مشرف پر حملے کرنے والی تنظیم کی رکن ہو۔ میری دو سالہ بیٹی آیت زہرا بھی دہشت گرد ہوسکتی ہے کہ اس کے فیڈر میں کیمیائی مواد کہیں بھی پھٹ سکتا ہے اور اس سے میرے وطن عزیز کی سلامتی کو خطر ہ لاحق ہوسکتا ہے؟
یہ تینوں دہشت گرد اب میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے اور کہیں بھی جانے سے ڈرتے ہیں۔ میرے تینوں بچے اب مجھے اور میری اہلیہ کو بھی دہشت گرد سمجھتے ہیں ، انہیں لگتا ہے کہ مجھے ملنے کے لئے آنے والا ہر دوست ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر کسی حیدر گیلانی کے اغواءکا منصوبہ بناتا ہے یا ہمارا ٹارگٹ شہباز تاثیر ہوسکتا ہے ۔ گھر میں کام کرنے والی ماسی بھی اب ان کےلئے پھولن دیوی ہے اور دودھ دینے والا اپنے ڈرموں میں کوئی خطر ناک کیمیکل لئے پھرتا ہے۔
یہ تینوں دہشت گرد اب میری ریاست پر یقین کرنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی احساس تحفظ ان میں واپس آرہا ہے ، وہ سوالات کرتے ہیں اور میں لاجواب ہوجاتا ہوں ۔ان کو کیسے یقین دلاﺅں کہ ہم سب دہشت گرد نہیں بلکہ پڑھے لکھے شہری ہیں اور آپ تینوں بہت چھوٹے بچے ہو، ہمارے پاس کوئی بندوق ، بم اور خود کش جیکٹ بھی نہیں مگر وہ یہ کہہ کر لاجواب کر دیتے ہیں کہ ذیشان ، خلیل اور نبیلہ بھی تو پڑھے لکھے شریف شہری اور پانچ وقت کے نمازی تھے، اریبہ اور عمیر بھی تو سکول جاتے تھے ، کھیلتے تھے ، نعتیں پڑھتے تھے مگر پھر وہ کیوں دہشت گرد نکلے ؟انہیں کس جرم میں بیچ چوراہے مارڈالا گیا؟ ان پر گولیاں کیوں برسائی گئیں ، انہیں کیوں چھلنی کردیا گیا ؟ ہم سب بھی تو انہی رستوں پر جاتے ہیں ، ہم بھی تو ان جیسے ہیں ۔ میرے یہ دہشت گرد بچے مجھے لاجواب کردیتے ہیں اور میں ان کے سامنے ریاست کی نا اہلی اور جبر بیان نہیں کرسکتا کہ ان کا اپنے وطن پر جو پختہ ایمان ہے وہ نہ اٹھ جائے، وہ جو دھرتی کو ماں سمجھتے ہیں اور اپنی ریاست کو مدینہ جیسی ریاست کہتے ہیں ، بضد ہیں کہ ہم سب دہشت گرد ہیں اور ہمیں کسی بھی وقت ماردیا جائے گا اور مارنے والے اپنے سفاکانہ عمل کو ڈھٹائی سے درست بھی قرار دینگے ، ریاست کے ترجمان اس ”چھوٹے کربلا“ کو جائز قرار دے رہے ہیں ۔ وزراءکایہ عمل قوم کےلئے ایک اور تازیانہ ہے ۔ مدینے کے والی حضرت محمد نے فرمایا تھا کہ ”جانوروں کو ان کے میمنوں کے سامنے مت ذبح کرو“ تیرہ سالہ اریبہ کو ماتھے میں گولیاں ماری گئیں ، بچوں کے سامنے ان کے والدین کو چھلنی کردیا گیا ۔ بچ جانے والے بچے اب بتاتے ہیں تو زمین لرز اٹھتی ہے کہ ابو ان کو کہتے رہے کہ ” پیسے لے لو ہمیں نہ مارو، ہم کوئی چور ڈاکو نہیں ہیں“۔
ہر گھر میں موجود چھوٹے چھوٹے ”دہشت گرد“ سہمے ہوئے ہیں ، انہیں سڑکوں ، گاڑیوں اور وردی والوں سے خوف آنے لگا ہے ۔ کوئی ہے جو ان میں احساس تحفظ لوٹائے یا ہمیں جے آئی ٹی کی رپورٹ تک ماہر امراض نفسیات کا سہارا لینا پڑے گا؟
جب بھی سانحہ ساہیوال کو ”درست آپریشن“ اور مرنے والوں کو دہشت گر د بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی یہی ” معصوم دہشت گرد“ اپنے ناحق خون سے وہ رپورٹ رد کردینگے کہ تاریخ کی سب سے بڑی ریاستی دہشت گردی جو کربلا میں ہوئی اسے بھی سیاسی جنگ کا ٹائٹل دینے والے ننھے شہید حضرت علی اصغر کے سامنے بے بس ہوگئے کہ ریاستیں کبھی بچوں کو قتل کرتی ہیں؟ اور مقتول اگر بچے ہیں تو پھر اسے صرف ظلم کہا جائے گا ، سرکاری ہینڈ آﺅٹ اور ترجمانوں کے بیانات مقتل کو دھندلا نہیں سکتے ۔
مشکل ہے کہ پہچان سکوں تیرے خدو خال
پھیلا ہے نگاہوں میں اندھیرا سر مقتل
اب ریاست کے وہ ستون جواس مقتل کو جو بیچ چوراہے کے سجایا گیا، کو جائز قرار دے رہے ہیں وہی بتادیں کہ ان کے گھروں میں موجود بچے خود کو دہشت گرد نہیں سمجھ رہے؟ کیا وہ بھی خوف زدہ نہیں اور کیا انہیں آہٹوں سے ڈر نہیں لگنے لگا ؟ اور اگر ایسا ہے تو تسلیم کریں کہ ان سے ظلم ہوا ہے۔ اپنا جرم مان کر ریاست کا بھرم بچا لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ریاست جو ماں جیسی ہے وہ ماں کے لفظ کا مفہوم ہی لے ڈوبے ۔
اگر حوصلہ نہیں تو پھر کچھ باوردی پولیس کے پتلے بنا کر انہیں پھانسی پر لٹکا دیا جائے یا گولیوں سے بھون دیا جائے اور یہ سارا جعلی منظر ٹی وی پر دکھایا جائے تو ہوسکتا ہے کہ ملک بھر کے بچوں کا ریاست اور قانون کی حکمرانی پر اعتماد بحال ہو، وہ بچے جنہوں نے ساہیوال میں اپنے والدین کو مرتے دیکھا ہے شاید ان میں بھی کوئی امنگ جینے کی پیدا ہو۔ معصوم ”دہشت گردوں“ کا خوف اسی طور دور ہوسکتا ہے اور اگر ایسا بھی نہیں کرسکتے کہ ایسا کرنے کے لئے حوصلہ ضروری ہے پیشہ ور قاتلوں میں حوصلہ نہیں ہوتا ، تو پھر سانحہ ساہیوال میں بچ جانے والے بچوں کو بھی مار دیا جائے کہ اب ان کی زندگی بھی موت کا ہی دوسرا نام ہے۔
Previous Articleچوری اور منشیات کے الزامات پر سینکڑوں پی آئی اے ملازمین برخاست
Next Article روحی بانو کے لئے .. قمر رضا شہزاد

