اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ مؤخر کردیا۔اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے بتایا کہ سابق حکومت گیس سیکٹر میں ایک سو 56 ارب روپے کا سالانہ خسارہ چھوڑ کر گئی، گیس چوری میں بھی پچھلے پانچ سالوں میں اضافہ ہوا، گیس سیکٹر کی تباہ کن حالت سے متعلق سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بہتر بتاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت گیس صرف 40 فیصد لوگوں کو میسر ہے، 60 فیصد سیلنڈر استعمال کرتے ہیں، گیس سیلنڈرز کی قیمتوں میں گزشتہ چند ہفتوں میں 70 فیصد اضافہ ہوا، لہٰذا وفاقی حکومت کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت جاری کی جائے گی کہ وہ سیلنڈرز استعمال کرنے والوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ای سی سی کے اجلاس میں فی الحال گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، گیس کی قیمتوں پر دی جانے والی سبسڈی کے نظام پر بحث ہوگی اس کے بعد وزیر اعظم حتمی فیصلہ کریں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیرِ اعظم عمران خان نے گیس سیکٹر کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سالانہ 50 ارب روپے کی گیس چوری کی روک تھام کے لیے گیس نرخ میں اوسطاً 46 فیصد اضافے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا، جس سے ایک گھریلو صارف کے کے لیے گیس کی قیمت میں 180 فیصد تک کا اضافہ ہوجائے گا۔رواں برس جون میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے سالانہ گیس چوری کا انکشاف کرتے ہوئے گیس کے نرخ بڑھانے کی منظوری دی تھی۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اجلاس میں کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جبکہ ایسا نظام وضع کیا گیا ہے کہ کھاد کے مقامی پلانٹس کو بھی گیس فراہم کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو سہولت کے لیے ایک بہت بڑی سبسڈی دی جائے گی، وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کسانوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔فواد چوہدری نے کہا کہ اس وقت یوریا کھاد کی ضرورت 5.833 ملین ٹن ہے جو گزشتہ سال 5.862 ملین ٹن تھی، یوریا کھاد کی ایک بوری کی قیمت ایک ہزار 615 روپے ہے، برآمد کرنے پر کھاد کی فی بوری کی قیمت 2 ہزار 575 روپے پڑتی ہے، 9 سو 60 روپے کا فرق حکومت برداشت کرے گی۔
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

