یہ موسم بھیگا موسم ہے
اور بارش ٹوٹ کے برسی ہے
اِ س موسم نے مرے اندر کے
ہر موسم کو چونکایا ہے
چُپ چاپ سا شور مچایا ہے
احساس کے پاگل پن کو لیے
اک ست رنگی جو قوس بنی
مری روح پہ ایسے چھائی ہے
اِ س موسم پگلے موسم میں
یہ پلکیں بھیگی بھیگی سی
اور آہوں کی دلگیر صدا
بس خاموشی کے لہجے میں
سب باتیں دل کی کہتی ہے
کُچھ اندر میرے جل تھل ہے
کچھ باہر رِم جھِم بوندیں ہیں
یخ بستہ سی اِن راتوں میں
سب یاد کے جگنو چار طرف
من مندر کی اس چوکھٹ پر
آسیب کی صورت پھیلے ہیں
مرے اندر کی اِ س بارش میں
جو برس برس کر روز اور شب
اِ س دل کی پیاسی دھرتی کی
کُچھ اور بھی پیاس بڑھاتی ہے
سب خواب بھی چکنا چور ہوئے
ارمان بھی دل سے دور ہوئے
اشکوں کی مالا ٹوٹ گئی
یہ جو اندر میرے بارش ہے
اور بھیگا موسم ہے
دونوں کا لہجہ ایک سا ہے
دونوں کا رشتہ ایک سا ہے
یہ جو اندر باہر پانی ہے
دونوں کی ایک کہانی ہے
پیر, اگست 24, 2026
تازہ خبریں:
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار
- ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
- مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم
- انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعدپاکستان میں گستاخی کے مقدمات میں دو تہائی کمی آئی : رائٹرز کی رپورٹ
- حکومت نے خان کی ہسپتال یاترا کرا دی : رات گئے چیک اپ علی الصبح سخت سیکیورٹی میں جیل واپس
- بیان مزید دربارہ سود و زیاں : وجاہت مسعود کا مکمل کالم

