اسلام آباد: نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں 6 سیاسی رہنماؤں کے نام پیش کردیے جنہیں ممکنہ طور پر انتخابی مہم کے دوران نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ان 6 افراد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما اسفند یار ولی اور امیر حیدر ہوتی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اکرم خان درانی اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے صاحبزادے اور الیکشن کے اُمیدوار طلحہ سعید کے نام شامل ہیں۔واضح رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر رحمٰن ملک کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مجموعی طور پر ملک کی داخلی صورتحال کے ساتھ آئندہ عام انتخابات کے تحت سیکیورٹی معاملات کا جائزہ لیا گیا ۔ سینیٹ میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے نیکٹا کے ڈائریکٹر عبید فاروق کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ نیکٹا کی جانب سے وفاقی وزارت داخلہ سمیت صوبوں کے محکمہ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 12 خطرات کے الرٹ جاری کیے جاچکے ہیں۔اس موقع پر سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین رحمٰن ملک نے ان خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت داخلہ کو خطرات کا سامنا کرنے والے سیاسی رہنماؤں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
جمعرات, ستمبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم

