ریاض : مشہور فیشن میگزین ‘ووگ’ کے سرورق پر سعودی شہزادی ہیفا بنت عبداللہ السعود کی بے پردہ تصویر شائع ہوئی ہے جس پر کچھ لوگوں نے احتجاج کیا ہے۔ ووگ کے سعودی عرب کے ایڈیشن میں شائع ہونے والی اس تصویر میں شہزادی ہیفا سفید لبادہ اوڑھے، اونچی ایڑی کے جوتے پہنے ایک کنورٹیبل گاڑی میں بیٹھی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا چہرہ کھلا ہے۔اس رسالے کو سعودی عرب کی خواتین کے نام معنون کیا گیا ہے اور اس میں ولی عہد محمد بن سلمان کی جاری کردہ اصلاحات کو سراہا گیا ہے جنہوں نے سخت گیر مذہبی حلقوں کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔شہزادی ہیفا، شاہ عبدالعزیز کی صاحبزادی ہیں جنھوں نے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی لگائی تھی،وہ میگزین میں کہتی ہیں: ‘ہمارے ملک میں بعض قدامت پرست ہیں جنھیں تبدیلی سے ڈر لگتا ہے۔ بہت سوں کے لیے یہی وہ سب کچھ ہے جو انھیں معلوم ہے۔’انھوں نے مزید کہا: ‘ذاتی طور پر میں ان تبدیلیوں کی پرجوش حمایت کرتی ہوں۔’تاہم دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس تصویر پر تنقید کی ہے جو اسی ماہ کم از کم 11 مظاہرین کی گرفتاری پر احتجاج کر رہے ہیں۔ان کے مطابق ان کی اکثریت ان خواتین پر مشتمل ہے جنھیں خواتین کی ڈرائیونگ کے حق میں مہم چلانے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ ان میں سے چار مظاہرین کو گذشتہ ماہ رہا کر دیا گیا تھا لیکن دوسروں کے بارے میں ابھی کچھ پتہ نہیں۔سرکاری میڈیا میں ان مظاہرین کو غدار اور ‘سفارت خانوں کے ایجنٹ’ قرار دیا گیا ہے۔
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

