نیو یارک :امریکا میں کی جانے والی ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فاسٹ فوڈ کھانے سے جگر کا مرض (جگر پر چربی) لاحق ہو سکتا ہے۔
جگر انسانی پیٹ کے اندر سب سے دوسرا بڑا عضو ہوتا ہے جو غذا کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا کام کرتا ہے۔ یہ عضو کھانے کو جسم میں خون اور تقویت دینے اور انسانی فضلے میں بدلنے کے لیے تقسیم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جگر کی خرابی سے ہی نظام ہاضمہ بھی متاثر ہوتا ہے اور اس عضو کی بیماری دیگر متعدد بیماریوں کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
جگر کی چربی ایک عام پایا جانے والا مرض ہے جو کہ موٹاپے سمیت غیر صحت مند غذا، سگریٹ و شراب نوشی جیسی عادات کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق سب سے خطرناک جگر پر چربی شراب و سگریٹ نوشی سے ہوتی ہے، تاہم موٹاپے اور غیر صحت مند غذائیں کھانے سے ہونے والی چربی بھی دیگر مسائل اور خصوصی طور پر پیٹ میں درد کی شکایت کو عام کر سکتی ہے۔
امریکی ماہرین نے جگر پر چربی اور فاسٹ فوڈ میں تعلق جاننے کے لیے 4 ہزار بالغ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ فاسٹ فوڈ کھانے کا جگر کے امراض سے گہرا تعلق ہے۔
’ہیلتھ نیوز‘ کے مطابق ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ نصف سے زیادہ امریکی بالغ افراد فاسٹ فوڈ کا استعمال کرتے ہیں اور گزشتہ نصف صدی میں اس کے استعمال میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق حیران کن طور پر کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد فاسٹ فوڈ کا استعمال بڑھ گیا، جس سے لوگوں میں جگر کے امراض بھی بڑھ گئے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ فاسٹ فوڈ استعمال کرنے والے تمام افراد کے جگر میں چربی پائی گئی، تاہم جن افراد نے یومیہ کم فاسٹ فوڈ کا استعمال کیا، ان میں چربی کی شرح بھی کم پائی گئی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے یومیہ ایک سے زائد فاسٹ فوڈ غذا کھائی ان کے جگر میں زیادہ چربی پائی گئی۔
ماہرین نے بتایا کہ عام افراد کا خیال ہوتا ہے کہ دن میں ایک بار فاسٹ فوڈ کھانے سے صحت پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے، اسی وجہ سے وہ غیر صحت مند کھانے کھا کر اپنی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ماہرین نے تجویز دی کہ فاسٹ فوڈ کی غذاؤں میں شامل ایسی غذاؤں کو انتخاب کیا جائے جن میں کم چکنائی ہو اور انہیں زیادہ تلا بھی نہ گیا ہو تو جگر کی چربی بڑھنے کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

