لاہور : حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی کے بعد اتوار کو کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کے حامیوں کے جانب سے ’اغوا‘ کیے گئے پولیس اہلکاروں کو بازیاب کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اہلسنت علما کی کال پر آج ملک بھر میں ہڑتال کی توقع کی جا رہی۔ مولانا فضل الرحمان اور تاجر برادری نے بھی اس کال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
پیر کی صبح سحری کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا ہے کہ اتوار کو لاہور میں کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے یرغمال بنائے گئے تمام سکیورٹی اہلکاروں کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ ویڈیو پیغام میں انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور پیر کی صبح ہوگا۔
اس سے قبل لاہور پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کے عمر دراز ننگیانہ کو تصدیق کی کہ اتوار کو مبینہ طور پر کالعدم تنظیم کی جانب سے یرغمال بنائے ہوئے تمام اہلکار بشمول ڈی ایس پی نواں کوٹ عمر فاروق بلوچ کو مذاکرات کے بعد بازیاب کروا لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کو پولیس کے ترجمان کی جانب سے دعوی کیا گیا تھا کہ تحریکِ لبیک کے مظاہرین نے 12 پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد یرغمال بنا لیا گیا تھا ۔
سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے گرفتار کیے گئے کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرنے اور ان کے خلاف درج کیے گئے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کے روز ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے بھی ہڑتال کی کال میں مفتی منیب الرحمٰن سے ‘مکمل تعاون’ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اتوار کو پولیس حکام کے مطابق ٹی ایل پی کے کارکنوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکاروں کو اغوا کر لیا جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے مابین اتوار کو جھڑپیں ہوئیں جن میں میں کم از کم 15 پولیس اہلکار اور متعدد کارکن زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ تصادم ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکز کے قریب ہوا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
لاہور میں ٹی ایل پی سے مذاکرات کے بعد یرغمال پولیس اہلکار ’بازیاب‘، : آج ملک گیر ہڑتال کی کال
ایڈیٹر1 Views

