Browsing: لاہور

خاتون نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے کہا کہ میں آپ کو 30 ہزار روپے دے دیتی ہوں۔ ان میں سے ایک مرد نے مجھے دھمکی دی اور بلیک میل کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ شراب پیو پھر تمھیں جانے دیں گئے۔ اس کے بعد دونوں مردوں نے میرا ریپ کیا۔‘

ان کا سیاسی جھکاؤ پاکستانی ڈاکٹروں کی اکثریت کی طرح پی ٹی آئی کی طرف تھا۔ وہ پاک فوج سے محبت کرتے تھے اور پاکستانی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ مضبوط ادارے، خصوصاً مضبوط فوج، پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ضمانت ہیں۔

لاہو ر اور ملک بھر میں متعدد شاہرائیں عابد مجید کے نام سے منسوب ہیں لیکن عابد مجید کے کارنامے کسی نصاب کا حصہ نہیں۔ اعزازی تلوار پانے والے عابد مجید کا المیہ یہ تھا کہ وہ جنگ کی افراتفری میں زندہ رہ کر اس منصب تک نہیں پہنچ سکا جہاں کمانڈر کے سینوں پر تمغوں کے لیے جگہ باقی نہیں بچتی اور اسے میدان جنگ سے دور کسی روشن کمرے میں ریا کار صحافیوں کے سامنے کم عمر سپاہیوں کی موت کے اعداد و شمار بیان کرنا ہوتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار کا جائزہ لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے لیے مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔