ان کا سیاسی جھکاؤ پاکستانی ڈاکٹروں کی اکثریت کی طرح پی ٹی آئی کی طرف تھا۔ وہ پاک فوج سے محبت کرتے تھے اور پاکستانی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ مضبوط ادارے، خصوصاً مضبوط فوج، پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ضمانت ہیں۔
Browsing: لاہور
اس دیس میں لکھنے والوں کیلئے یہ کچھ خوشگوار دن نہیں ہیں۔ کہنے کی باتیں قلمی احتساب کی زد میں آ جاتی ہیں۔ اگر کوئی کٹ پھٹا جملہ باقی بچتا ہے تو اسے پڑھنے والوں کی بے سمت تلخ کامی لے ڈوبتی ہے۔
لاہو ر اور ملک بھر میں متعدد شاہرائیں عابد مجید کے نام سے منسوب ہیں لیکن عابد مجید کے کارنامے کسی نصاب کا حصہ نہیں۔ اعزازی تلوار پانے والے عابد مجید کا المیہ یہ تھا کہ وہ جنگ کی افراتفری میں زندہ رہ کر اس منصب تک نہیں پہنچ سکا جہاں کمانڈر کے سینوں پر تمغوں کے لیے جگہ باقی نہیں بچتی اور اسے میدان جنگ سے دور کسی روشن کمرے میں ریا کار صحافیوں کے سامنے کم عمر سپاہیوں کی موت کے اعداد و شمار بیان کرنا ہوتے ہیں۔
زندہ قومیں اپنی تاریخ میں سنہ 71ء یاد رکھتی ہیں اور جنہیں زندگی سے تعلق نہ ہو وہ اپنا سنہ 71ء فراموش کر دیتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار کا جائزہ لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے لیے مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
یہ 1980 کی دہائی کا ذکر ہے۔ ہم ان دنوں ڈیرہ غازی خان میں تھے جب میں نے اپنے والد کی زبان سے محسن نقوی کا…
لاہور : نجی جامعہ ’یونیورسٹی آف لاہور‘ میں فارمیسی کے پہلے سمسٹر کی ایک طالبہ نے مبینہ طور پر دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خود…
سردیاں ہوں، فراغت ہو اور بندہ لاہور میں ہو اور کشمیری چائے میں کلچہ ڈبو کر نہ کھائے، یہ ممکن نہیں۔ آج صبح یہی کام کیا…
سب سے پہلے تو وزیرا علیٰ پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ انہوں نے گزشتہ دنوں یہ دعویٰ کیا کہ وہ ہماری تاریخ کی…
لاہور کی پرانی آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کرتی، راوی دریا کی جانب جاتی سڑک پر بھاٹی چوک سے کچھ ہی دور بائیں جانب پیر…
