اقوام متحدہ کے ایک سادہ سے سروے کے مطابق پسماندہ قوموں کے دس لاکھ بچے سالانہ محض بھوک سے جانکنی کے بعد موت کے گھاٹ اُترتے ہیں۔ دوسری سمت اسلحہ کی دوڑ، جنگ پرستی کے نئے ہتھکنڈے اور اس سے ہٹ کر انسانیت کے متعلق کھوکھلی اور دفتری لفاظی ایک شاعر کے تجربے کو فریب نہیں دے سکتی۔ اس کے اس بڑھتے پھیلتے آشوب سے ظہور نظر جو کبھی سچائی کی تلخی کا زہر پینے سے نہیں ہچکچایا تھا، بھلا کس طرح غافل رہ سکتا تھا؟
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
