Browsing: ایران

جنگ بند ہونے اور حالات معمول پر آنے کی صورت میں پاسداران کے جنرلز شاید من مانی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔ خاص طور سے اگر انہیں ’قوت‘ فراہم کرنے والا رہبر اعلیٰ بھی کوئی فیصلہ کرنے یا عوام کو شکل دکھانے کے قابل نہیں ہے تو پاسداران انقلاب کی ’مجبوری‘ قابل فہم بھی ہوجاتی ہے۔

سب کی طرح امریکہ اور ایران پر بھی واضح ہورہا ہے کہ جس تنازعہ میں انہوں نے سینگ پھنسائے ہیں، اس سے باہر نکلنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی حل کے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ اللہ کا شکر کرنا چاہئے کہ دونوں ملک بہت زیادہ خرابی سے پہلے ہی امن کو موقع دینے کی طرف گامزن ہورہے ہیں۔ اس میں کسی کی جیت اور کسی کی ہار نہیں ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بیٹا اپنے باپ کے جنازے میں لمحہ بھر کے لیے بھی شریک نہ ہو اور نہ ہی اس کا کوئی آڈیو یا ویڈیو سامنے آسکے۔ یہ طے ہونا باقی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر کون ایران اور دنیا کو دھوکے میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔

اگر ایران نے عرب ممالک پر حملوں پر کنٹرول نہ کیا تو بعض ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی اس تنازعہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ لڑائی پاسداران انقلاب کی طاقت سے زیادہ اسرائیلی حکمت عملی کی کامیابی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
(

خامنہ ای کے جنازے پر آنسو بہانے والوں کا ایک سمندر موجود تھا لیکن اس سوگ کو پاسداران کی شدت پسندی کا تصدیق نامہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ نہ ہی ان جلوسوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہوکر بھی موجودہ رجیم کا ساتھ دیتے رہیں گے۔

ایرانی حکام کو توقع ہے کہ ایران اور عراق مختلف شہروں میں چھ روز تک جاری رہنے والی آخری رسومات میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد شرکت کریں گے۔
جنازے کے شرکاء انتقام اور مرگ بر امریکا کے نعرے لگا رہے ہیں ۔

یہ پہلو قابل غور ہونا چاہئے کہ ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے عرب ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کرنے کے بارے میں دورہ عراق کا انتخاب کیا ۔ انہوں نے یہ بات ا س تنازعہ کے ثالث پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران نہیں کہی اور نہ ہی دیگر اہم عرب ممالک کے ساتھ گفتگو میں اس قسم کی کوئی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مکمل تجزیئے کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے