Browsing: ایران

البتہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ حکمت عملی، فلسطین اور غزہ کے علاوہ لبنان کے بارے میں اس کی پالیسی اور گریٹر اسرائیل قائم کرکے پورے خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی اسرائیلی خواہش ، ایک اہم خلیجی مسلمان ملک سے اس کی قربت کے بارے میں عرب ممالک اور مسلم دنیا میں تشویش کا باعث بنے گی

کرد حقوق کی تنظیم ہنگاو کے مطابق رویا حشمتی نے بتایا تھا کہ تہران میں پراسیکیوٹر کے دفتر میں ایک خاتون اہلکار نے زبردستی ان کے سر پر سکارف پہنایا، جس کے بعد ایک مرد اہلکار نے ان کے کندھوں، کمر، کولہوں اور ٹانگوں پر کوڑے مارے۔

ایران نے اگر نومبر میں امریکی مڈ ٹرم انتخابات تک کسی معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو اس کے بعد صدر ٹرمپ نئے اور خطرناک حملوں کا سلسلہ شروع کرسکتے ہیں۔ ایران، خطے اور دنیا کے لیے جنگ کے اس نئے دور سے بچنا بے حد اہم ہے۔

’اعلان اسلام آباد‘ کے نام سے طے والے معاہدہ میں بھی امریکہ شکست خوردہ ہی دکھائی دیتا تھا ۔ البتہ ایران کے حقیقی حکمرانوں، پاسداران انقلاب نے اس کا احترام کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر جنگ کا آغاز کیا۔

اب لگتا یہ ہے کہ امریکہ موجودہ دور میں عالمی تھانیداری (Global Policing) کے ہردم مہنگے ہوتے ہوئے کردار کو ترک کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اور امریکہ کی جانب سے “پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اجتماعی سلامتی ایگریمنٹ” جیسے علاقائی سلامتی کے معاہدوں کی حمایت اسی بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، تو نئی ابھرتی ہوئی عالمی صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ اب یک طرفہ سلامتی کے روایتی امریکی ماڈل کو اہمیت باقی رہتی ہے یا چین کی مشترکہ اجتماعی سلامتی پالیسی تسلیم کی جاتی ہے؟

جنگ بند ہونے اور حالات معمول پر آنے کی صورت میں پاسداران کے جنرلز شاید من مانی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔ خاص طور سے اگر انہیں ’قوت‘ فراہم کرنے والا رہبر اعلیٰ بھی کوئی فیصلہ کرنے یا عوام کو شکل دکھانے کے قابل نہیں ہے تو پاسداران انقلاب کی ’مجبوری‘ قابل فہم بھی ہوجاتی ہے۔

سب کی طرح امریکہ اور ایران پر بھی واضح ہورہا ہے کہ جس تنازعہ میں انہوں نے سینگ پھنسائے ہیں، اس سے باہر نکلنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی حل کے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ اللہ کا شکر کرنا چاہئے کہ دونوں ملک بہت زیادہ خرابی سے پہلے ہی امن کو موقع دینے کی طرف گامزن ہورہے ہیں۔ اس میں کسی کی جیت اور کسی کی ہار نہیں ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بیٹا اپنے باپ کے جنازے میں لمحہ بھر کے لیے بھی شریک نہ ہو اور نہ ہی اس کا کوئی آڈیو یا ویڈیو سامنے آسکے۔ یہ طے ہونا باقی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر کون ایران اور دنیا کو دھوکے میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔