فیڈرل اردو یونیورسٹی کا کیس ہمارے سامنے ہے ۔ ایسے میں طلبہ کیا70 ستر سال کے اُستاد اور ٹیچر بھی کاکروچ تحریک چلاتے ہیں البتہ وہ ہمارے میڈیا کی توجہ کا مرکز نہیں بن پاتے کیونکہ اس میں وہ ’کلر‘ نظر نہیں آتا۔طلبہ غلط ہو سکتے ہیں، جذباتی بھی ہوسکتے ہیں مگر’غدار‘ نہیں ہو سکتے۔ ’کاکروچ‘ تحریک سے سبق سیکھیں بیماری کا علاج دوا سے ہوتا ہے لاٹھی یا آنسو گیس سے نہیں۔
Browsing: کالم
اس دیس میں لکھنے والوں کیلئے یہ کچھ خوشگوار دن نہیں ہیں۔ کہنے کی باتیں قلمی احتساب کی زد میں آ جاتی ہیں۔ اگر کوئی کٹ پھٹا جملہ باقی بچتا ہے تو اسے پڑھنے والوں کی بے سمت تلخ کامی لے ڈوبتی ہے۔
لاہو ر اور ملک بھر میں متعدد شاہرائیں عابد مجید کے نام سے منسوب ہیں لیکن عابد مجید کے کارنامے کسی نصاب کا حصہ نہیں۔ اعزازی تلوار پانے والے عابد مجید کا المیہ یہ تھا کہ وہ جنگ کی افراتفری میں زندہ رہ کر اس منصب تک نہیں پہنچ سکا جہاں کمانڈر کے سینوں پر تمغوں کے لیے جگہ باقی نہیں بچتی اور اسے میدان جنگ سے دور کسی روشن کمرے میں ریا کار صحافیوں کے سامنے کم عمر سپاہیوں کی موت کے اعداد و شمار بیان کرنا ہوتے ہیں۔
کاش کوئی دیانتدار ماہر معیشت یہ پتہ بھی لگائے کہ پٹرول کی قیمت طے کرنے سے ’حکومت کو الگ کرنے والے‘ سرکاری افسران میں سے کتنے بڑے ناموں والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی ہیں اور انہیں ان کے اجلاس میں شرکت کے لئے کیا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔
اپنے رسالے ” اوراق“ کے ذریعے قریباً چالیس سال تک متعدد نئے لکھنے والوں کو اعتماد اور قوت اظہار عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے ادبی کام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جا چکے تھے۔ صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں اچانک قیمتیں کم ہو جائیں تو پہلے سے مہنگے داموں درآمد کیا گیا لاکھوں ٹن اسٹاک کم قیمت پر فروخت کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے درآمد کنندگان اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اگر یہ صورتحال بار بار پیدا ہوئی تو کمپنیاں بڑے ذخائر رکھنے کے بجائے محدود درآمد کو ترجیح دے سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں کسی ہنگامی صورتحال یا جہازوں کی آمد میں تاخیر کی صورت میں ملک کے بعض علاقوں میں پٹرول کی عارضی قلت پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
کسی ملک میں تخلیقی سرگرمی کا معیار ناگزیر طور پر اجتماعی بندوبست کی توانائی سے بندھا ہے۔ ہم نے جو اجتماعی ذہن مرتب کیا ہے وہ تخلیقی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکا اور سوویت یونین میں فلم کے میدان میں کڑا مقابلہ رہا اور بازی امریکا کے ہاتھ رہی۔ وجہ یہ کہ سوویت یونین میں تخلیقی سرگرمی پر نظریاتی قبا اوڑھے ہوئے کم سواد ، خوشامدی اور جعل ساز اہلکاروں کا اجارہ تھا۔
زندہ قومیں اپنی تاریخ میں سنہ 71ء یاد رکھتی ہیں اور جنہیں زندگی سے تعلق نہ ہو وہ اپنا سنہ 71ء فراموش کر دیتے ہیں۔
پہریدار اب تھک رہے ہیں۔ ان کی لوہے کی لاٹھیاں اب ہجوم کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ جب وہ ایک کو مارتے ہیں تو اس کی جگہ دس نئے سر ابھر آتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے جو آخری کالم لکھا تھا اس میں تفصیل سے بیان کرچکا ہوں کہ میری سوئی ان دنوں بھارتی بنگال کے سیاسی واقعات پر اٹکی…
