ہم نے متحدہ ہندوستان کے آخری دس برس میں جی توڑ کر مقدمہ لڑا، مقدمہ جیت گئے اور تاریخ ہار گئے۔ تاریخ کی اسی شکست کا تزلزل 1973 کے دستور کو روز اول سے مرتعش کیے ہوئے تھا۔ بظاہر ایک جمہوری حکومت دستور کے مطابق اپنی میعاد مکمل کرنے کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن کہیں کوئی تھا جسے صدارتی نظام حکومت اور قومی وسائل پر فرمان شاہی کے ذریعے قدرت مطلق کی آرزو مچلتی تھی۔
بدھ, اگست 5, 2026
تازہ خبریں:
- آزاد کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد ’دو ہندسوں‘ میں، ایکشن کمیٹی کو ’انڈیا کی حمایت‘ حاصل ہے: رانا ثنا اللہ
- ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے : وجاہت مسعود کا کالم
- کیا ریفرنڈم نئے صوبوں کی راہ ہموار کر دے گا : نصرت جاوید کا کالم
- میں، روزنامہ ’کالک‘ اور ’عدم جونئیر‘ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- سوات : تھانے کے باہر خودکش دھماکا۔۔ امن مظاہرے میں شریک 14 افراد ہلاک ۔۔ 15 سے زیادہ زخمی
- انکل انکل اگلی لاٹھی کب مارو گے؟ وسعت اللہ خان کا کالم
- محسن نقوی ریٹائر ہوں گے یا صدر بنیں گے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کانچ کے گھروں سے سنگ زنی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نظام کی ناکامی کا ذمہ دار کون ؟ ۔۔ شہزاد عمران خان کا کالم
- مظفر آباد میں بھی احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ : میر پور میں انٹرنیٹ بند
