انگریزوں کے طرز معاشرت میں ٹین ایج سے ہی بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ بنانے کا رواج ہے۔ پچیسں اور تیس سال کی عمر تک ہر گورے لڑکے اور لڑکی کی زندگی میں کئی طرح کے فرینڈز اور پارٹنر بن چکے ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ شادی کر کے اپنے پاؤں میں کسی مستقل ذمہ داری کی زنجیر نہیں ڈالتے۔ کسی ایک دوست سے دل بھر جانے یا اکتاہٹ کا شکار ہونے پر وہ کوئی نیا ساتھی تلاش کر لیتے ہیں۔ انگریز کسی ایک ہی شخص کو عمر بھر محبوب بنائے رکھنے پر یقین نہیں رکھتے
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
