Browsing: رضی

پیر سپاہی بلاشبہ ملتان کا دلچسپ کردار تھا جس کے پاس میری نانی اماں بھی اپنے ہاتھ کے شوگر زدہ زخم پر دم کرانے کوٹ ادو سے ملتان آئی تھیں۔ ٹھیک تو خیر کیا ہونا تھا ان کی تشخیص بھی بعد میں ہوئی تھی۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ پیر سپاہی بھی ضیائی کرشمہ تھا۔رضی کا پیر سپاہی کی کہانی کو ‘توڑ’ (آخر) تک پہنچانا ، ان کا صحافیانہ انداز ہے۔

جب بھی لاہور ہمیں بلاتا ہم اشرف صاحب سے ضرور ملتے تھے ۔۔گوال منڈی میں محفل سجتی ۔ اشرف جاوید بعد ازاں انجمن ترقی ادب سے منسلک ہو گئے ۔۔ اب تک ان کے چھے شعری مجموعوں سمیت مختلف سیاسی و ادبی موضوعات پر جو کتب شائع ہوئیں ان میں عالمی سیاست کے فرمانروا ، پاکستان میں انتخابات کی تاریخ ، امنِ عالم خدشات و خطرات ، آفتابِ داغ ( داغ دہلوی کے کلام کی تدوین حواشی کے ساتھ شامل ہیں ۔۔

دن بدلیں گے جاناں رضی الدین رضی کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔۔ یہ کتاب پہلی بار 1995 میں شائع ہوا ۔۔یہ مزاحمت اور محبت کی شاعری ہے ۔۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن مدت سے مارکیٹ میں موجود نہیں تھا ۔۔ حال ہی میں اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا گیا ہے ۔۔ قیمت صرف 600 روپے ہے ۔۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں ۔۔ 03186780423 ۔۔ ۔۔ مکمل نظم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں

امی کے جانے کے بعد یہ خاندان مکمل ہو گیا ۔۔ سب نے آج خوب دل کی باتیں کی ہوں گی ۔۔ نانی اماں نے گلے سے لگایا ہو گا ۔۔ دادی ہاتھ پکڑ کر ابو کے پاس لے گئی ہوں گی کہ تم اتنے برسوں سے اس کی راہ تک رہے تھے لو آ گئی ہے اب پوچھ لو کیوں دیر سے آئی اور امی نے کہا ہو گا ’’ تہاڈیاں امانتاں دی حفاظت نئیں کرنی سی ۔۔ ؟ سب نوں بنے لا کے آئی آں ‘‘ ( آپ کی امانتوں کی حفاظت نہیں کرنا تھی ؟ ۔۔ سب کو کنارے لگا کر آئی ہوں )