ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا ان سیکیورٹی بریچز میں اندرونی عناصر شامل ہوتے ہیں؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس کا جواب صرف مستند شواہد کی بنیاد پر ہی دیا جا سکتا ہے۔ اب تک کسی قابلِ اعتبار عالمی تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ ایران میں موجود کسی مخصوص مذہبی برادری ، خواہ وہ کلیمی ہو، مسیحی ہو یا زرتشتی ان میں سے کسی کا ان واقعات میں کوئی کردار رہا ہے۔ زیادہ تر تجزیہ کار ان واقعات کو بین الاقوامی انٹیلی جنس سرگرمیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جوڑتے ہیں۔
Browsing: امریکا
وہ جب شہنشاہ ایران کو سعودی عرب لے کر گیا تو اس وقت اس کا تاریخی استقبال ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ہم ایک اسلامی بلاک بنائیں گے یہ ذوالفقار علی بھٹو کیوں پیدا ہو گیا تھا ایسے لوگوں کو تو غریب قوموں میں پیدا نہیں ہونا چاہیے ایسی قومیں جن کو اپنی قوت کا پتہ نہ ہو جن کو اپنی مضبوطی کا پتہ نہ ہو جن کو اپنے بیماریوں کا پتہ نہ ہو ان میں ایک شعور والا کیوں پیدا ہو گیا تھا یہ وہ شعور والا تھا جو تمام صیہونی اور استعماری قوتوں کو چبھنے لگ گیا ۔
’نو کنگز‘ کی تحریک گذشتہ برس جون میں صدر ٹرمپ کی سالگرہ کے موقع پر شروع ہوئی تھی جس میں ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں 2100 مقامات پر 40 سے 60 لاکھ افراد شریک ہوئے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش کے سوال پر المسلمی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی ایک ڈراؤنا خواب ہے، اور یہ اسے مزید خوفناک بنا دے گا۔‘
’’عالمی میڈیا‘‘ کی جانب سے پھیلائی ناامیدی کے باوجود میں یہ امید دلانے کو مجبور ہوں کہ یہ کالم چھپنے کے 24سے 72گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ایسا نہ ہوا تو ہمیں آئندہ کئی برسوں تک خلیج وایران ہی نہیں بلکہ جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے پاکستان سے فلپائن تک پھیلے ملکوں میں بھی کامل ابتری کا عذاب بھگتنا ہوگا۔
صحافی بارک راود نے خبر دی کہ ٹرمپ کے داماد اور دیرینہ دوست پاکستان کی وساطت سے ایران کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ان رابطوں ہی نے پیر کی شام ٹرمپ کی جانب سے ہوئے اعلان کی راہ ہموار کی
زلفغاری نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جیسے لوگ تم جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے، نہ اب اور نہ ہی آئندہ کبھی۔‘
ایک ایرانی سفارتکار نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ اس ’بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔‘
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان کا کہنا تھا کہ ’اگر (ان مذاکرات کے حوالے سے) حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو دیگر جگہوں کے علاوہ اسلام آباد بھی میزبانی کا مقام ہو سکتا ہے۔‘
’ہم اپنی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تفصیلات کے منتظر ہیں۔
مریکی شرائط پر طے ہونے والا کوئی معاہدہ موجودہ رجیم کا آخری اہم فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں جو کام امریکی جنگ سے پورا نہیں ہؤا، وہ ایرانی عوام کا غم و غصہ پورا کردے گا۔ اگر ایرانی لیڈر پابندیاں اٹھوانے اور معاشی بحالی کے لیے کسی مثبت معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ، پھر امریکہ اور دنیا کو ایک نئی جوہری طاقت کے ظہور پزیر ہونےکا منتظر رہنا چاہئے۔
انہیں شبہ ہے کہ پاکستان دورمارمیزائلوں کے جدید ترین ورژن تیار کرنا چاہ رہا ہے ۔ جو متعددحساس معاملات پر ہمیں امریکہ کو انکار کے قابل بناسکیں۔
امریکہ کے جاسوسی کارندوں کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر شکوک وشبہات کا برسرعام اظہار عین ان دنوں دہرایا گیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ ایران ہی نہیں اس کے قدرتی وسائل سے مالا مال تمام خلیجی ہمسایوں کو کامل ابتری وانتشار کے سپرد کرنے میں مصروف ہے ۔
