راولپنڈی 🙁 خصوصی رپورٹ) ۔جمعہ کے روز راولپنڈی میں مولاناسمیع الحق کے قتل میں ان کی سکیورٹی کے حوالے سے بہت سے سوالات کو جنم دیاہے۔انہیں بحریہ ٹاﺅن میں قتل کیاگیاجہاں چپے چپے پرکیمرے نصب ہیں اورکسی اجنبی کاآسانی سے وہاں داخل ہوناممکن نہیں ۔ان کے ساتھ دومحافظ تھے ۔واردات کے وقت ان کاگھرپرموجودنہ ہونا بھی کئی سوالات کو جنم دیتاہے۔مولاناسمیع الحق جیسی قدآور شخصیت کی سکیورٹی کیا اتنی کمزور تھی کہ قاتل اطمینا ن کے ساتھ انہیں چھریوں سے قتل کرکے فرار ہوگئے ۔یہ سوال بہر حال بہت اہمیت کا حامل ہے ۔مولانا سمیع الحق کاطالبان افغانستان اورپاکستان کے معاملات میں یکساں کردار رہاہے انہیں دھمکیاں بھی ملتی تھی اوران پرپہلے بھی حملے ہوچکے تھے ۔ایسے میں ان کے محافظوں کا انہیں اکیلے گھرچھوڑ کرچلے جانامعنی خیز ہے ۔انہیں جس بے دردی سے چھریوں کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتاراگیا اس سے بھی یہ ظاہر ہوتاہے کہ قاتل کوئی انتقام لے رہاتھایاانہیں اذیت دے کر قتل کرناچاہتے تھے ۔بصورت دیگر ایسی وارداتوں میں فائرنگ کرکے فرارہوجانا زیادہ آسان ہوتاہے ۔یہاں ایک اورسوال بھی بہت اہمیت کاحامل ہے کہ ان کی قتل کی دووجوہات میڈیا میں کیوں آئیں ابتدائی طورپریہ بتایاگیا کہ وہ گاڑی میں جارہے تھے ان کے محافظ بھی ساتھ تھے اورواردات میں مولاناجاں بحق اورمحافظ زخمی ہوگئے ۔کئی منٹ تک میڈیا یہی خبرچلاتارہا اوراس کے بعد چاقو سے قتل کی خبر سامنے آگئی ۔پولیس ذرائع کاکہناہے کہ وہ تفتیش میں ان تمام پہلوﺅں کو مدنظررکھ رہی ہے ۔
جمعرات, نومبر 5, 2026
تازہ خبریں:
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور
- پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ

