وزیر خارجہ پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے ملتان میں ایک جگہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھی اب تبدیلی چاہتا ہے ۔ سندھ کو متبادل دیں وہ متبادل تحریک انصاف ہوگی ۔ تحریک انصاف سندھ کے اندر موجودہ سیٹ اپ کو شکست دے گی کیونکہ سندھ کی حکومت بھی اپنے حکمرانوں سے تنگ ہیں ۔ اس موقع پر انہوں نے سندھ میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا ۔
اس خود اعتمادی کی وجہ تحریک انصاف کی حالیہ آزاد کشمیر میں جیت ہے ۔ تحریک انصاف کی 2013 میں خیبرپختونخوا میں حکومت بنائی ۔ 2018 میں وفاق ، پنجاب ، خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان ، بلوچستان میں اتحادی اور اب آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیابی نے بھی جماعت کے حوصلے بلند کردیے ہیں ۔
دراصل پاکستان تحریک انصاف نے کارکردگی پر تو خاص توجہ نہیں دی لیکن اداروں کے ساتھ تعلقات کو بہتر رکھا ۔ جس کی وجہ سے انہیں رکاوٹ ملنے کی بجائے سپورٹ بھی ملی ۔
دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن یا تو وفاق میں ہوتی تھی یا پنجاب میں یا کبھی کبھار بلوچستان یا خیبرپختونخوا میں اتحادی رہی ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی ماضی کی سیاست دیکھیں تو اسے صوبوں کی زنجیر کیاجاتا تھا ۔ لیکن اب پاکستان پیپلز پارٹی سکڑ کر اندرون سندھ تک محدود ہو گئی ہے ۔ جس کی وجہ جماعت میں موجود سیاسی رہنماؤں کی کارکردگی ہے ۔
آج تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اسی لیے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو للکار رہے ہیں جلسے جلوسوں کا بھی ارادہ رکھتے ہیں لیکن اگر پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کریں تو وہ تقریباً چند ووٹوں تک ہی محدود ہو گئی ہے ۔ 2018 کے انتخابات اور اس کے بعد تمام ضمنی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئی دراصل پاکستان پیپلز پنجاب ایک گھر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے وہ ہے "گیلانی ہاؤس ” ۔
پنجاب کے اندر یوسف رضا گیلانی اور ان کے بیٹے عبدالقادر گیلانی ، علی موسیٰ گیلانی اور علی حیدر گیلانی نے انتخابات میں حصہ لیا ۔ گیلانی خاندان نے شہر میں اپنی ہی نشستوں پر محنت کی جبکہ شہر کی باقی سترہ نشستوں پر یا تو امیدوار تھے ہی نہیں اگر تھے تو ان کی انتخابی مہم میں کوئی دلچسپی نہیں لی گئی ، یوسف رضا گیلانی پاکستان پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین بھی ہیں پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی شخصیت بھی ہیں ۔ 2018 کے انتخابات میں بھی انہوں نے صرف اپنی نشست اور بیٹوں کی نشستوں پر ہی انتخابی مہم چلائی اور محنت کی جس میں بھی صرف صوبائی حلقہ کی نشست پر علی حیدر گیلانی کامیاب ہوئے پنجاب میں باقی حلقوں میں اگر پیپلز پارٹی کا کوئی ممبر ایم این اے یا ایم پی اے بنا تو اپنی ہی محنت کے بل بوتے پر بنا یوسف رضا گیلانی کی کوئی سپورٹ نہ تھی ۔
2018 کے انتخابات کے بعد صوبہ بھر میں جہاں جہاں بھی ضمنی انتخاب ہوا ۔ اول تو پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ لینے والا کوئی نہیں تھا اگر کوئی لے بھی لے تو پنجاب کی قیادت خصوصی طور پر یوسف رضا گیلانی نے نہ انتخابی مہم میں امیدوار کی حوصلہ افزائی کی نہ ہی کوئی اس کی حمایت میں کوئی بیان دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی مسلسل بری طرح ناکام ہوئی ۔
جبکہ امیدوار بھی گیلانی خاندان کی سرد مہری کے باعث نالاں رہا ۔ یوسف رضا گیلانی کے اپنے شہر کو دیکھ لیں ۔ شہر کی 17 قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں سے 4 پر گیلانی خاندان موجود ہے جبکہ باقی 13 نشستوں پر کوئی مظبوط امیدوار نہیں ۔ اس کی وجہ خودی گیلانی خاندان ہے ۔ یوسف رضا گیلانی نے شہر سے کسی پارٹی ورکر کو رہنما بننے ہی نہیں دیا نہ حوصلہ افزائی کی اور نہ ہی اس کے حلقہ میں مظبوط کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کیا۔
جب قومی اسمبلی میں سینیٹر کے انتخابات ہوئے تو جب پی ڈی ایم کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کا نام آیا ۔ تو پھر گیلانی خاندان پنجاب میں متحرک ہوگیا ۔ اور سینیٹ کی نشست جیتیں لیکن اس طرح کا ولولہ اور کوشش پاکستان پیپلز پارٹی کے کسی ضمنی انتخاب میں گیلانی خاندان نے نہیں کی ۔ جس کا نقصان پارٹی کو ہوا ۔ بظاہر لگتا ہے گیلانی خاندان صرف اپنی نشستوں تک پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے لیکن پارٹی کے لیے وقت اور دلچسپی نہیں رکھتا ۔ یہ وجہ ہے ایک پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی پتلی حالت دیکھ کر موجودہ پنجاب کے حکمرانوں کو نہیں للکار رہی جبکہ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے شہری علاقوں میں بہتر پوزیشن بناکر اندرون سندھ میں جانے کا ارادہ رکھ رہی ہے ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی پنجاب میں موجودہ صورت حال کے حوالے سے قمر زمان کائرہ صاحب نے تو ایک انٹرویو میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا تھا ان سے سوال پوچھا گیا کہ پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی ختم کیوں ہوچکی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ اس کے ذمہ دار ہم ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی یا پھر گیلانی خاندان کا کوئی فرد کب اعتراف کرے گا ۔
فیس بک کمینٹ

