گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے، اس کا مظاہرہ ہم ہر روز ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں دیکھتے ہیں، جہاں حفیظ اللہ نیازی ،جو وزیر اعظم عمران خان کے فرسٹ کزن اور ان کے بہنوئی ہیں ، وزیر اعظم کے بارے میں ”عمران شناسی“کا دعویٰ کرتے ہوئے، گھر کا بھیدی ہونے کے ناتے اکثر”لنکا ڈھاتے “رہتے ہیں۔ حفیظ اللہ نیازی ،اپنے کزن اور برادرنسبتی وزیر اعظم عمران خان کے دور میں، ان کی حیثیت و مرتبے سے فائدہ اٹھاکر مال پانی بنانے کی بجائے ان پر طنز و تنقید کے تیر بھی برساتے رہتے ہیں، اورنئے نئے انکشافات بھی کرتے رہتے ہیں۔ساتھ ساتھ اپنی قریبی رشتہ داری کا اقرار بھی کرنا نہیں بھولتے۔اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ”’بدلے ہزار موسم۔رشتے نہیں بدلتے“‘۔عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں حفیظ اللہ نیازی کا ”’عمران شناسی“‘کا دعویٰ ان کی اصل سٹرینتھ ہے۔امید ہے مستقبل کا مورخ بھی ان کایہ اعزاز برقرار رکھے گا۔
وزیر اعظم عمران خان نے جس کرونا ٹائیگر فورس کا اعلان کیا ہے ، اس پر ہر طرف سے اعتراضات اور لے دے ہو رہی ہے ۔ مگر حفیظ اللہ نیازی نے ٹائیگر فورس کی وجہ تسمیہ بتاتے ہوئے گھر کا بھیدی ہونے کے ناطے عوام کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ لفظ ”ٹائیگر“ سے عمران خان کو بہت محبت ہے اور اس کا پس منظر یہ ہے کہ عمران خان کا لاڈلا کتا جو بارہ سال عمران خان کے قریب رہ کر ان کا پیار سمیٹتا رہا ، اس کی جدائی کے بعد،عمران خان اس ٹائیگر کی وفا داری کبھی نہیں بھلا پائے۔ مزید یہ کہ ”شیرو“بے چارہ تو یوں ہی بدنام ہو گیا۔حفیظ اللہ نیازی نے البتہ یہ نہیں بتایا کہ”ٹائیگر“کب اور کن حالات میں عمران خان سے جدا ہوا۔بنی گالہ کی ٹھنڈی ہوائیں بھی ”ٹائیگر“ کو نصیب ہوئیں یا پھر زمان پارک ہی میں داغ مفارقت دے گیا؟ اور یہ سوال بھی تشنہ کام رہ گیا کہ کیا کبھی ” ٹائیگر“کی آنکھیں بھی عمران خان کوپریشان دیکھ کر اشک بارہو جایا کرتی تھیں، جیسا کہ ”شیرو“ کی صفات میں سنا گیا تھا۔ہاں ۔یہ وضاحت ضرور کر دی کہ ”ٹائیگر“ کے بعد عمران خان جس میں بھی وفاداری کے اوصاف دیکھتے ہیں ، اسے ”ٹائیگر“کہہ کر پکارنے میں تسکین محسوس کرتے ہیں۔
محترم قارئین میں سے اگر کسی کی دل شکنی ہوئی ہو تو ہم معذرت خواہ ہیں کیونکہ ہم نے تو گھر کے بھیدی کی ڈھائی لنکا کا خلاصہ پیش کیا ہے ۔بہر طور، کتے کی وفا داری تو ایک مسلمہ امر ہے۔ہمارے صوفی بزرگ بھی کہہ گئے ہیں۔”’کتے، تیں توں اتے“‘۔ سابق صدر مشرف کا کتا بھی ان کے ساتھ اکثر اٹکھیلیاں کرتا د کھائی دیتا تھا۔مشرف خود اب اس حال میں ہیں تو ان کا کتا بے چارہ کس حال میں ہو گا۔
بڑے لوگوں کی ”کتا پروری“ کا ذکر کریں تو بات طویل ہو جائے گی مگر اپنے حکمرانوں کی جانوروں سے محبت میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے تین بار کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو جانوروں میں شیر بہت پسند ہے، حالانکہ نہ تو بھارتی جاتی امراءاور نہ ہی پاکستانی جاتی امراءکے گردو نواح میں کوئی ایسا جنگل ہے ، جہاں شیر پائے جاتے ہوں ۔لاہور کے نواح میں ایک ہی جنگل مشہور تھا ”چھانگا مانگا“۔جس کی وجہ شہرت بچوں کی تفریح گاہ تھی ۔ سن اسی کی دہائی میں میاں صاحبان نے اسے بڑی سیاسی مہارت سے استعمال کر کے ،شہرت دوام بخشی تھی۔میاں صاحب کی پسند کی وجہ سے ا ن کا نہ صرف انتخابی نشان شیر ہے بلکہ ان کی ہر رہائش گاہ کے باہر دھاڑتے ہوئے شیر کا ماڈل یا تصویر بھی آویزاں ہے۔جو میاں صاحب کی شیر سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میاں صاحب کے مخالفین ان پر کاغذی شیر ہونے کی پھبتی بھی کستے رہتے ہیں۔
عمران خان کی ٹائیگر سے محبت کی وجہ تو حفیظ اللہ نیازی نے بتا دی ۔ عین ممکن ہے کہ عمران خان کی محبت میں ”ٹائیگر“ دوبارہ ”شیرو“ کا روپ لے کر بنی گالہ میں آ گیا ہو۔خیر۔آج کل حفیظ اللہ نیازی ، نون لیگ کے مداح و ہمنوا ہیں۔کبھی میاں نواز شریف سے شیر سے محبت کی وجہ بھی پوچھ کر قوم کو بتا دیں۔اب کچھ ذکر کرتے ہیں سابق صدر آصف علی زرداری کی جانوروں سے محبت کا۔زرداری صاحب کو البتہ ٹائیگر اور شیر جیسے چیر پھاڑ کرنے والے درندہ جانوروں کی بجائے ، بار برداری کی صورت میں انسانی خدمت کرنے والے جانوروں سے محبت تھی۔زرداری صاحب کے گھوڑوں کے مربوں کی کہانیاں تو قوم کو یاد ہوں گی۔ہم اس زمانے میں بھی سوچتے تھے کہ زرداری صاحب تو بلوچ ہیں اور خانہ بدوش ہونے کے ناطے ، اونٹ اور بلوچ کا ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ بلوچوں کی پہچان تو اونٹ ہوا کرتی تھی۔ پھر خیال آتا کہ زرداری صاحب ”اونٹ رے اونٹ۔ تیری کون سی کل سیدھی“ جیسی پھبتی سے بچنے کے لیئے ،صدر بننے کے بعد اونٹ کی بجائے گھوڑے کو ترجیح دیتے ہیں۔اور بلوچوں کی اس بات پر عمل کرتے ہیں کہ”’گھوڑا، سردار دی شان ہوندے“‘۔
وزیر اعظم عمران خان نے بھلے کتنی ہی نیک نیتی سے کرونا ٹائیگر فورس بنائی ہو ۔ مخالفین ہیں کہ اس پر تنقید کرتے نہیں تھکتے۔ ہمیں تو اپنے وزیر اعظم کی نیت پر مکمل بھروسہ اور اعتمادہے۔ مگر کیا کیجئے کہ ہم بھی یہی سوچنے پر مجبور ہیں کہ دہاڑی دار غریب مزدور اور اس کے بچوں کے بھوکے پیٹ کرونا ٹائیگر فورس کو ”’ٹائیگرز ان ایکشن“‘ کی صورت میں کب دیکھیں گے؟۔۔کب نو من تیل ہو گا اور کب رادھا ناچے گی؟۔
اتوار, ستمبر 20, 2026
تازہ خبریں:
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ رہائی کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار
- ماہرہ خان اور قوم کو مبارک ہو : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

