پہلے تو میں یہ واضح کر دوں کہ اب میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق ہے نہ کوئی سیاسی نظریہ ۔۔کیونکہ نظریات نامی چیز اپنی موت آپ مر کر ان قبروں تلے دفن ہو چکی ہے جن کے اب نشان بھی باقی نہیں رہے۔۔۔میری عمر کے افراد نے جوانی میں روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کو نظریہ سمجھ کر خوب دھمال ڈالا۔۔۔پھر ادھڑ عمری میں قرض اتارو ملک سنوارو کے نعرے کو نظریہ بنا کر جھومتے رہے اور دور حاضر میں کرپشن فری پاکستان کی لوریاں رات کو ہی نہیں صبح شام چوبیس گھنٹے سن سن کر سر دھن رہے ہیں۔۔۔میں آپ کو اس کرپشن فری پاکستان کی ایک ہلکی سی جھلک دکھا رہا ہوں ۔۔
ملتان کے حبس زدہ موسم سے چند دن کی رخصت لے کر گزشتہ روز فیملی کے ساتھ لمبی ڈرائیو کی صعوبت سے بچنے کے لئے ایک ویگن کرائے پر لے کر شمالی علاقہ جات کے لئے رات ایک بجے ملتان سے روانہ ہوئے ۔۔الصبح اسلام آباد سے مری روڈ کے آغاز پر ہی گاڑیوں کی کھڑی قطار دیکھتے ہی ڈرائیور نے کہا۔۔۔صاحب ایک سو روپے دیں۔۔کیوں ؟۔۔میرے سوال پر اس نے ڈرائیو نگ گیٹ کھول کر اترتے ہوئے کہا۔۔۔سو روپے دیں۔۔۔آکر بتاتا ہوں ۔۔۔وہ سو روپے لے کر گیا اور چند لمحوں بعد ہی آ کر ڈرائیو نگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی چلاتے ہوئے بولا۔۔۔صاحب۔۔ہر دو چار دن بعد ادھر چکر لگتا ہے۔۔کانسٹیبل سے ہاتھ ملاتے ہوئے سو روپے اس ہاتھ میں پکڑا دیتا ہوں۔۔۔بہت سا وقت بچ جاتا ہے۔۔۔۔
چلیئے جی۔۔۔یہاں سے آگے بڑھے۔۔مری ایکسپریس روڈ کی طرف مڑے ۔۔ٹول پلازہ پر ٹیکس ادا کیا اور ٹول پلازہ کراس کرتے ہی گاڑی سائیڈ پر لگانے کا اشارہ مل گیا۔۔۔۔ڈرائیور نے پھر تین سو روپے مانگے۔۔۔۔۔پھر ۔۔کیوں ؟پر جواب آیا۔۔ایکسپریس روڈ پر پبلک ٹرانسپورٹ نہیں آ سکتی مگر تین سو روپے کے چالان پر آپ جا سکتے ہیں۔۔کیا خوب لاجک ہے ۔۔کہتے ہوئے تین سو روپے ڈرائیور کے ہاتھ میں پکڑانے پڑے ۔۔۔۔
لیجیئے جناب ۔۔۔اب مری میں داخلے کا مرحلہ آیا۔۔۔پولیس کے باوردی جوان کے اشارے پر گاڑی سائیڈ پر لگی اور اس بار ڈرائیور نے ایک ہزار مانگ لیا۔۔۔بھئی کمال ہے ۔۔ایک ہزار کس بات کا؟؟؟صاحب یہ چالان کی پرچی دیں گے اور پھر تین چار دن یہاں کوئی نہیں پوچھے گا۔۔ڈرائیور کی سمجھ داری اور پولیس شناسی پر میں نے اسے دل کھول کر شاباش دی۔۔۔۔
میرے محترم قارئین ۔۔اب قانون پر عمل داری کا جو واقعہ میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اس نے اس خوبصورت جگہ کا حسن گہنا کر مجھے بے چین اور مایوس کر دیا ہے۔۔۔
یہ ڈونگہ گلی ہے۔۔نتھیا گلی سے ذرا پہلے۔۔۔جی ہاں ۔۔وہی نتھیا گلی جہاں ہمارے وزیراعظم آئے روز پش اپ بھی لگاتے ہیں اور ویک اینڈ بھی مناتے ہیں۔۔۔ہم ڈونگہ گلی کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہیں۔۔۔
قانون پر عمل داری کو مجھ سمیت سینکڑوں افراد نے بچشمِ خود دیکھا۔۔۔ایک ڈرائیور نے ہنڈا سٹی کار سڑک کے کنارے کھڑی کی۔۔باوردی پولیس مین نے ڈرائیور کے گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی اس کے سر پر پہنچ کر ایک سو روپے مانگے ۔۔انکار پر تڑاخ کر کے ڈرائیور کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کر دیا۔۔ڈرائیور کی مزاحمت دیکھتے ہوئے یکے بعد دیگرے دو پولیس افسران اور ان کے ساتھ تین چار آدمیوں کا گروپ گاڑی کی طرف دوڑتے ہوئے آیا۔۔۔مجھ سمیت بہت سے افراد نے یہی سمجھا کہ یہ معاملہ رفع دفع کرانے آئے ہیں۔۔مگر نہیں جناب ۔۔قانون پوری طرح حرکت میں آ چکا تھا۔۔قانون کی مکمل عمل داری کے لئے کندھوں پر عہدوں کے پھول سجائے ہوئے پولیس افسران نے بھی اپنے ہاتھوں سے اس ڈرائیور یر قانون نافذ کیا۔۔یھر اچانک ایک کیری ڈبہ وین کہیں سے نمودار ہوئی ۔۔روڈ بلاک ہو گیا۔۔چینختے چلاتے ملزم کو زبردستی کیری ڈبے میں ڈال کر قانون پر مکمل عملداری کی مہر سینکڑوں افراد کی موجودگی میں لگا دی گئی ۔۔۔ہاں ایک بات یہ کہ ملزم نے اپنی قمیض کی سائیڈ والی جیب کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔۔ایک شخص جو میری ہی طرح تماشائی تھا اور اسی علاقے سے لگتا تھا اس سے میں نے پوچھ لیا۔۔۔۔یہ اس آدمی نے اینی جیب اس قدر مضبوطی سے کیوں پکڑی ہوئی ہے۔۔۔۔دھیمے لہجے میں جواب آیا۔۔۔۔۔سمجھدار بندہ ہے۔۔۔جانتا ہے کہ اسی دھینگا مستی میں اس کی جیب میں کوئی نشہ آور چیز ڈال دی جائے گی اور پھر گفتاری کے بعد منشیات برآمدگی ڈالی جائے گی۔۔۔یہ بات سن کر مجھے یقین ہو گیا کہ رانا ثناءاللہ کی گرفتاری اور پندرہ کلو منشیات کی برآمدگی قانون کے عین مطابق کی گئی ہے۔۔ہم خوامخواہ اداروں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔۔۔
مجھے اس سارے قانونی عمل اور سینکڑوں پاکستانیوں کی بے حسی پر رنجیدہ دیکھ کر میرے ساتھ کھڑے ہوئے ہوٹل مینیجر نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔۔۔چھوڑیں صاحب ۔۔یہ تو روز کا کام ہے۔۔۔۔اور میں یہ سوچتے ہوئے چل پڑا کہ واقعی یہ تو روز کا کام ہے۔۔ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو محترم عرفان صدیقی کو بھی تو قانون کے عین مطابق ہی گرفتار کرنے کی خبر سنی ہے۔۔میں اس مجسٹریٹ صاحب کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جس نے اٹھتر اسی سالی ضعیف دانشور کے ہاتھوں میں لگی ہتھکڑی کھولنے کا حکم دینے کی بجائے اس کی رہائی کی درخواست مسترد کر کر قانون کا سر فخر سے بلند کیا۔۔۔کمرے میں آ کر ٹی وی آن کیا تو محترمہ فردوس عاشق اعوان درس دے رہی تھیں ۔۔۔۔کسی کہ ساتھ نا انصافی نہیں ہو گی ۔۔قانون کے مطابق عمل ہو گا۔۔۔آپ لاکھ اختلاف کریں ۔مجھے تو فردوس عاشق اعوان کی بات یر پورا یقین ہے۔۔۔
Previous Articleعرفان صدیقی کی گرفتاری ’’ورنہ تھانے چلو‘‘۔۔نصرت جاوید
Next Article ایک سال کی حکومت۔۔مظہر عباس

