کوئٹہ : بلوچستان بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل رہی ہے۔ موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ اس سے ہزاروں افراد کا کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق صوبے میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے انٹرنیٹ کی موبائل سروس معطل کی گئی ہے۔ ماضی میں چند علاقوں میں مخصوص وقت تک سروس معطل کی جاتی رہی ہے۔ اس سے قبل کبھی پورے صوبے میں اس طرح سروس معطل نہیں رہی ہے۔
چیمبر آف سمال انڈسٹریز کوئٹہ کے صدر میر مراد بلوچ نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن بلوچستان میں انٹرنیٹ سے ہزاروں افراد کا کاروبار جڑا ہوا ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ موبائل فون انٹرنیٹ بندش سے ان کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوڈ ڈیلیوری، ای کامرس، موبائل بینکنگ اور فری لانسنگ سے وابستہ یومیہ اجرت کمانے والے افراد اس سے بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی مکمل بندش کی بجائے بلوچستان میں روزگار کے تحفظ کے لیے انٹرنیٹ کی متوازن بندش کی پالیسی اپنائی جائے۔
دوسری جانب موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے خلاف سینٹ میں تحریک التوا بھی جمع کرائی گئی ہے ۔ یہ تحریک التوا سینیٹر کامران مرتضیٰ نے جمع کرائی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی ۔۔ اردو )
جمعہ, اکتوبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے

