”اسقدر اداس مت ہو ، عمر کے اس پار میں تمہاری۔ مانا کے سفر کٹھن ہے ، فقط دعا کرو طویل نا ہو۔ بڑا منافع بخش سودا کیا ہے میں نے اپنے رب سے ۔ اپنی یہ فانی زندگی اس کی چاہت پر قربان کر دی ، اور بدلے میں اک حیاتِ لافانی اپنی چاہت کے عین مطابق مانگ لی ہے ، یقیناً وہ میری چاہت کی لاج رکھے گا کیوں کہ اس کے کیے ہوئے اس عہد ”اے ابنِ آدم اگر تو نے سپرد کر دیا خود کو اسکے جو میری چاہت ہے، تو میں تجھے دوں گا وہ جو تیری چاہت ہے“ پر بھروسہ کرتے ہوئے ہی تو یہ سودا کیا میں نے۔
کتنی دیر کر دیتا ہے انسان اتنی سی بات سمجھنے میں کہ اس رب ذوالجلال کی چاہت کے منافی جا کر اپنی کسی بھی چاہت کا حصول ناممکن ہے، بھول جاتے ہیں ہم کہ اگر ہم نے اسکی چاہت کو قبول نہ کیا تو تھکا دے گا وہ ہمیں اس میں جو ہماری چاہت ہے۔ مگر میں تھکنا نہیں چاہتی اسی لیے اسکی ہر چاہت بخوشی تسلیم کر رہی ہوں تاکہ ان سانسوں کے اس پار میں اسے اس کا وعدہ یاد دلا کر اپنی چاہت مانگ سکوں ۔ بیشک وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔ “
آج طویل عرصے بعد اسکی آخری گفتگو میری سماعتوں میں بازگشت کرنے لگی ! کتنی منفرد تھی وہ، محبت بھی نرالی کی اس نے اور انتظار بھی انوکھا دے گئی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں یقین کی جو چمک تھی شاید اسی نے میرے انتظار کو آج تک مدھم نہیں پڑنے دیا ۔ برسوں بعد بھی وہ میری روح و دل کو شبنم کے تازہ قطروں کی مانند سر سبزو شاداب کیے ہوئے تھی۔
اس کو گئے محض وقت نہیں بلکہ زمانہ گزر چکا تھا۔ آج جیسے صدیوں کا سفر اس ایک لمحے میں سمٹ آیا تھا جس لمحے وہ اور میں "یقین” کے اس سفر پر مختلف سمتوں میں گامزن ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
اس کی یادوں کے بھنور اتنے گہرے تھے جن میں ڈوب کر مجھے اپنے ہاتھ میں پکڑا کافی کا کپ بھول گیا تھا۔۔۔۔
میں نے کپ لرزتے ہاتھ سے سامنے سٹڈی ٹیبل پررکھ دیا ۔
ناتواں ہاتھوں پر پڑی گہری سلوٹیں جو ن ایلیا کے ایک مشہور شعر کی ترجمانی کر گئیں ۔۔۔۔
اس کی امیدِ ناز کا ہم سے یہ مان تھا کے آپ!
عمر گزار دیجیئے ، عمر گزار دی گئی

